Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 452
وَعَنْ کَبَشْۃَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَ کَانَتْ تَحْتَ ابْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ اَنَّ اَبَا قَتَادَۃَ دَخَلَ عَلَیْھَا فَسَکَبَتْ لَہ، وَضُوْئًا فَجَائَتْ ھِرَّۃٌ تَشْرَبُ مِنْہُ فَاَصْغٰی لَھَا الْاِ نَآءَ حَتّٰی شَرِبَتْ قَالَتْ کَبْشَۃُ فَرَاٰنِیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ فَقَالَ اَتَعْجَبِیْنَ یَا ابْنَۃَ اَخِیْ قَالَتْ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمقَالَ اِنَّھَا لَیْسَتْ بِنَجْسٍ اِنَّھَا مِنَّ الطَّوَّافِیْنِ عَلَیْکُمْ اَوِ الطَّوَّافَاتِ۔ (رواہ مالک و مسند احمد بن حنبل والترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ و الدارمی)
پانی کے احکام کا بیان
حضرت کبشہ بنت کعب بن مالک سے جو حضرت ابوقتادہ ؓ کے بیٹے کی بیوی تھیں مروی ہے کہ (ایک روز ان کے سسر حضرت ابوقتادہ ؓ ان کے پاس آئے (کبشہ کہتی ہیں کہ) میں نے ان کے وضو کے لئے (ایک برتن میں) پانی رکھ دیا، ایک بلی آکر اس میں سے پانی پینے لگی، حضرت ابوقتادہ ؓ نے برتن کو اس کی طرف جھکا دیا (تاکہ وہ آسانی سے پانی پی لے) چناچہ بلی نے پانی پی لیا کبشہ کہتی ہیں کہ جب حضرت ابوقتادہ ؓ نے مجھے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا میری بھتیجی کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ حضرت ابوقتادہ ؓ نے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا بلیاں ناپاک نہیں ہیں، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہیں یا یہ فرمایا آنے جانے والیوں میں سے ہیں۔ (موطا امام مالک، مسند احمد بن حنبل جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
حضرت ابوقتادہ ؓ نے کبشہ کو بھیتجی کہا ہے حالانکہ وہ ان کی بھیتجی نہیں تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں عام طور پر مرد مخاطب کو اگر وہ چھوٹا ہوتا ہے بھتیجا یا چچا کا بیٹا اور عورت مخاطب کو بھتیجی کہہ کر پکارتے ہیں چاہے حقیقت میں ان کا یہ رشتہ نہ ہو کیونکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، اس لئے وہ اسلامی اخوت کے رشتے کے پیش نظر اس کی اولاد کو بھیتجا یا بھیتجی کہتے ہیں۔ روایت میں طوافین اور طوافات دونوں لفظ استعمال فرمائے گئے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ بلی اگر نر ہے تو اس کی مناسبت سے طوافین کا لفظ ہوگا اور اگر بلی مادہ ہے تو اس کی مناسبت سے طوافات کا لفظ ہوگا۔ یہ دونوں لفظ یہاں خادم کے معنی میں استعمال فرمائے ہیں اس کا مطب یہ ہے کہ بلیاں تمہاری خادم ہیں ان کو خادم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بھی انسانوں کی مختلف طریقوں سے خدمت کرتی ہیں اور ان کے آرام و راحت کی بعض چیزوں میں بڑی معاون ہوتی ہیں مثلاً نقصان دہ جانوروں جیسے چوہے وغیرہ کو یہ مارتی ہیں۔ یا ان کو خادم اس مناسبت سے کہا گیا ہے کہ جیسے خادموں کی خبر گیری میں ثواب ملتا ہے اسی طرح بلیوں کی خبر گیری میں بھی ثواب ہوتا ہے اور جس طرح گھروں میں خادم پھرتے رہتے ہیں اس طرح بلیاں بھی گھروں میں پھرتی رہتی ہیں۔ بہر حال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلیاں تمہارے پاس ہر وقت خادموں کی طرح رہتی ہیں اور گھر کے ہر حصے میں پھرا کرتی ہیں اگر ان کے استعمال کئے کو ناپاک قرار دے دیا جائے تو تم سب بڑی دشواریوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اس لئے یہ حکم کیا جاتا ہے کہ بلیوں کا استعمال کردہ پاک ہے۔ گویا یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ بلی کا استعمال کردہ پاک ہے چناچہ امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ بلیوں کا استعمال کردہ ناپاک نہیں ہے بلکہ پاک ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ بلی کا استعمال کردہ مکروہ تنزیہی ہے یعنی اگر بلی کے استعمال کردہ پانی کے علاوہ دوسرا پانی نہ مل سکے تو اس سے وضو کرنا جائز ہے۔ اس کی موجودگی میں تیمم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر بلی کے استعمال کردہ پانی کے علاوہ دوسرا پانی موجود ہو اور اس کے باوجود اسی جھوٹے پانی سے وضو کیا جائے گا تو وضو ہوجائے گا لیکن مکروہ ہوگا۔ امام صاحب (رح) اس شکل میں اسے مکروہ بھی اس لئے فرماتے ہیں کہ ایک دوسری حدیث میں بلی کو درندہ کہا گیا ہے اور درندہ کے بارے میں بتایا گیا کہ ناپاک ہوتا ہے لیکن یہ حدیث چونکہ اس کے بالکل برعکس ہے اس لئے ان دونوں حدیثوں پر نظر رکھتے ہوئے کوئی ایسا حکم نافذ کیا جانا چاہئے جو دونوں حدیثوں کے مفہوم کے مطابق ہو لہٰذا اب یہی کیا جائے گا کہ جس حدیث میں بلی کو درندہ کہہ کر اس کی نجاست کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ اپنی جگہ صحیح ہے مگر اس حدیث نے بلی کی نجاست کے حکم کو کراہت میں بدل دیا ہے لہٰذا اس کے استعمال کئے ہوئے کو ناپاک تو نہیں کہیں گے البتہ مکروہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Top