Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 728
وَعَنْ اَبِی سَعِیْدٍالخُدْرِیِّ قَالَ بَیْنَمَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی بِاَصْحَابِہٖ اِذْ خَلَعَ نَعْلَیْہِ فَوَضَعَھُمَا عَنْ یَسَارِہِ فَلَمَّا رَایْ ذٰلِکَ القَوْمُ اَلْقُوْا نِعَالَھُمْ فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمصَلَاتَہ، قَالَ مَا حَمَلَکُمْ عَلَی اِلْقَائِکُمْ نِعَالَکُمْ قَالُوْا رَاَیْنَکَ اَلْقَیْتَ نَعْلَیْکَ فَاَلْقَیْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ جِبْرِیْلَ اَتَانِی فَأَخْبَرَنِی اَنَّ فِیْھِمَا قَذَرًا اِذَا جَآءَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَنْظُرْ فَاِنْ رَایَ فِی نَعْلَیْہِ قَذَرًا فَلْیَمْسَحُہ، وَالْیُصَلِّ فِیْھِمَا۔ (رواہ ابوداؤد و الدارمی)
ستر ڈھانکنے کا بیان
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ سرور کائنات ﷺ اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے اچانک اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں طرف (دور ہٹا کر) رکھ لئے جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار ڈالے۔ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ تمہیں جوتے اتارنے پر کس چیز نے مجبور کردیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے جوتے اتار ڈالے ہیں اس لئے ہم نے بھی اپنے جوتے اتار ڈالے آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اس لئے میں نے تو جوتے اس لئے اتارے تھے کہ) میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے خبر دی کہ میرے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے (اس لئے میں نے جوتے اتاردئیے تھے) تم میں سے جو آدمی مسجد میں آئے تو پہلے وہ اپنے جوتے دیکھ لیا کرے۔ اگر ان میں نجاست لگی ہوئی معلوم ہو تو انہیں صاف کرلے (اور انہیں پہنے ہی پہنے) نماز پڑھ لے۔ (سنن ابوداؤد، دارمی )
تشریح
قذر (قاف کے زبر اور دال معجمہ کے ساتھ) اس چیز کو کہتے ہیں جسے طبیعت مکروہ رکھے اس لفظ سے بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے جوتے میں ایسی نجاست نہیں لگی ہوگی جس سے نماز درست نہ ہوتی ہو بلکہ کوئی گھناؤنی چیز جیسے رینٹھ وغیرہ لگی ہوگی کیونکہ اگر نجاست لگی ہوتی تو آپ ﷺ از سر نو نماز پڑھتے حالانکہ آپ ﷺ نے جتنی نماز پڑھ لی تھی نہ آپ ﷺ نے اس کا اعادہ کیا اور نہ از سر نو نماز پڑھی۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا خبر دینا اور پھر اس خبر کی بناء پر آپ ﷺ کا جوتوں کو اتار دینا اس لئے تھا کہ آپ ﷺ کے مزاج اقدس میں چونکہ صفائی اور ستھرائی بہت زیادہ تھی اس لئے جوتوں پر اس گھناؤنی چیز کا لگا رہنا آپ ﷺ کے مزاج کے مناسب نہیں تھا اور بعض شوافع حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کسی نمازی کے کپڑے وغیرہ پر نجاست لگی ہوئی ہو اور اسے اس کا علم نہ ہو تو نماز ہوجاتی ہے حضرت امام شافعی (رح) کا یہ قول قدیم ہے۔ بہرحال۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی متابعت واجب ہے کیونکہ صحابہ نے کوئی سبب پوچھے بغیر محض آپ ﷺ کو جوتے اتارتے دیکھ کر اپنے جوتے فوراً اتار ڈالے اور پھر رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے جائز رکھا۔
Top