مشکوٰۃ المصابیح - لباس کا بیان - 4202
" لباس " اصل میں تو مصدر ہے، لیکن استعمال " ملبوس " کے معنی میں ہوتا ہے، جیسا کہ " کتاب " کا لفظ مصدر ہونے کے باوجود " مکتوب " کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے " لباس " کے ماضی اور مضارع کے صیغے باب علم یعلم سے آتے ہیں، ویسے اس کا مصدر لبس (لام کے پیش کے ساتھ) بھی آتا ہے ! اور لبس جو لام کے زبر کے ساتھ آتا ہے اس کے معنی التباس و خلط کے ہیں جس کا باب ضرب یضرب ہے۔
Top