مشکوٰۃ المصابیح - لباس کا بیان - حدیث نمبر 4264
وعن عكرمة قال : رأيت ابن عباس يأتزر فيضع حاشية إزاره من مقدمه على ظهر قدمه ويرفع من مؤخرة قلت لم تأتزر هذه الإزرة ؟ قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتزرها . رواه أبو داود
اگر تہبند آگے سے لٹکا ہوا ہو لیکن پیچھے سے اٹھا ہوا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں
اور حضرت عکرمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو اس طرح تہبند باندھے ہوئے دیکھا کہ وہ اس تہبند کے آگے کا کنارہ تو اپنے پیروں کے اوپر تک رکھتے اور اس کے پیچھے کا کنارہ ٹخنوں سے اونچا رکھتے تھے، میں نے یہ دیکھ کر حضرت ابن عباس ؓ سے کہا کہ آپ کبھی کبھی اس طرح تہبند کیوں باندھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ بھی کبھی کبھی اس طرح تہبند باندھا کرتے تھے۔ (ابوداؤد )

تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ تہبند و پاجامہ آگے کی طرف تو لٹکا رہے لیکن پیچھے کی طرف سے ٹخنوں سے اوپر اٹھا رہے تو عدم اسبال یعنی ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکانے کے حکم کی تعمیل کے لئے کافی ہے۔
Top