مشکوٰۃ المصابیح - لعان کا بیان - 3281
وعن أبي هريرة قال : قيل لرسول الله صلى الله عليه و سلم : أي النساء خير ؟ قال : " التي تسره إذا نظر وتطيعه إذا أمر ولا تخالفه في نفسها ولا مالها بما يكره " . رواه النسائي والبيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ کون سی بیوی بہتر ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب شوہر اس کو کوئی حکم دے تو اس کو بجا لائے (بشرطیکہ وہ حکم خلاف شرع نہ ہو) اور اپنی ذات اور اپنے مال میں اس کے خلاف کوئی ایسی بات نہ کرے جس کو وہ پسند نہ کرتا ہو۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔

تشریح
: اس روایت میں ایک اچھی بیوی کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے یعنی اس کی خوش اخلاقی وخوش اطواری کو دیکھے تو وہ خوش ہوجائے اور اگر کہیں وہ بیوی صورت و سیرت دونوں میں اچھی ہو تو پھر کیا کہنا نور علی نور اور سرور علی سرور ہے اسی طرح ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنے مال میں ایسی کوئی بات نہ کرے جو اس کے شوہر کی نظر میں پسندیدہ نہ ہو۔ یہاں اپنے مال سے خود اس بیوی کا مال بھی مراد ہوسکتا ہے یعنی جس مال کی حقیقت میں وہ خود مالک ہو اس مال کو بھی وہ اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف خرچ نہ کرے اور اس سے وہ مال بھی ہوسکتا ہے جو خود اس کی ملکیت نہ ہو بلکہ حقیقت میں مالک تو اس کا خاوند ہو البتہ اس عورت کے قبضہ و تصرف میں ہو اس صورت میں بھی یہ مطلب ہوگا کہ اس کا خاوند اس کو جو کچھ مال و اسباب اور روپیہ پیسہ دے وہ اس کو ایک امانت کے طور پر اپنے پاس رکھے اس میں نہ تو خیانت کرے اور نہ اپنے خاوند کی مرضی کے خلاف اس کو خرچ کرے۔
Top