مشکوٰۃ المصابیح - نماز قصر سے متعلقہ احادیث - 1307
وَعَنْ حَا رِثَۃَبْنِ وَھْبِ نِ الْخُزَاعِیِّ صقَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَنَحْنُ اَکْثَرُ مَا کُنَّا قَطُّ وَاٰمَنَہُ بِمِنٰی رَّکْعَتَیْنِ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت حارثہ ابن وہب خزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ سر تاج دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں منیٰ میں دو رکعتیں پڑھائیں اور اس موقعہ پر ہم اتنی تعداد میں تھے کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھے اور امن کی حالت میں تھے۔ " (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

تشریح
یہ حجۃ الوداع کا ذکر ہے اس موقع پر چونکہ اسلام کی حقانیت و صداقت اکثر دلوں میں اپنا گھر کرچکی تھی اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تھی اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام اتنی زیادہ تعداد میں تھے اس سے پہلے کسی موقع پر نہ تھے۔ " امن کی حالت میں تھے " کا مطلب یہ ہے کہ کفار کے کسی حملے اور ان سے کسی جنگ وغیرہ کا کوئی خوف نہیں تھا۔ بلکہ بہت اطمینان اور سکون کی حالت میں تھے اس کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ قصر کی مشروعیت کفار کے فتنوں کے خوف پر موقوف نہیں ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیت سے ظاہری پر معلوم ہوتا ہے بلکہ سفر پر بہر صورت قصر کرنا چاہیے چناچہ اگلی حدیث میں اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
Top