مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 3832
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث ولا تحسسوا ولا تجسسوا ولا تناجشوا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا . وفي رواية ولا تنافسوا . متفق عليه
سورت فاتحہ نہ پڑھنے سے ادھوراثواب ملتا ہے
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے جس نے رکوع پایا اسے پوری رکعت مل گئی اور جو آدمی سورت فاتحہ پڑھنے سے رہ گیا وہ بہت سارے ثواب سے (بھی محروم) رہ گیا۔ (مالک)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس نے نماز میں سورت فاتحہ نہیں پڑھی تو چونکہ وہ اس وجہ سے بہت زیادہ ثواب سے محروم رہ گی اس لئے اس کی نماز کا ثواب ناقص ہے۔ اس حدیث سے بین طریقہ پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے کیونکہ اگر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض ہوتا تو نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کی وجہ سے کمی و نقصان نہیں ہوتا بلکہ نماز نہ ہونے کی وجہ سے سرے سے ثواب ملتا ہی نہیں۔ اس حدیث سے بین طریقہ پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے کیونکہ اگر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض ہوتا تو نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کی وجہ سے کمی و نقصان نہیں ہوتا بلکہ نماز نہ ہونے کی وجہ سے سرے سے ثواب ملتا ہی نہیں۔
Top