مشکوٰۃ المصابیح - ابن صیاد کے قصہ کا بیان - حدیث نمبر 2554
وعن أبي بكرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يمكث أبو الدجال ثلاثين عاما لا يولد لهما ولد ثم يولد لهما غلام أعور أضرس وأقله منفعة تنام عيناه ولا ينام قلبه . ثم نعت لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أبويه فقال أبوه طوال ضرب اللحم كأن أنفه منقار وأمه امرأة فرضاخية طويلة اليدين . فقال أبو بكرة فسمعنا بمولود في اليهود . فذهبت أنا والزبير بن العوام حتى دخلنا على أبويه فإذا نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهما فقلنا هل لكما ولد ؟ فقالا مكثنا ثلاثين عاما لا يولد لنا ولد ثم ولد لنا غلام أعور أضرس وأقله منفعة تنام عيناه ولا ينام قلبه قال فخرجنا من عندهما فإذا هو مجندل في الشمس في قطيفة وله همهمة فكشف عن رأسه فقال ما قلتما وهل سمعت ما قلنا ؟ قال نعم تنام عيناي ولا ينام قلبي . رواه الترمذي .
ظلم کا بیان
ظلم کے لغوی معنی ہیں کسی چیر کو بےموقع اور بےمحل رکھنا یعنی جس چیر کی جو جگہ اور جو محل ہو اس کو وہاں کی بجائے دوسری جگہ اور دوسرے محل میں رکھنا! اور یہ مفہوم ہر اس چیز کو شامل ہے جو اپنی حد سے تجاوز کر جائے اور اس کو جس طرح واقع ہونا چاہئے اس کے بجائے زیادتی یا نقصان کے ساتھ بےجا اور بےوقت واقع ہو چناچہ جس چیر کو عام اصطلاح میں جور وتعدی یا زور، زبردستی اور ستم کرنا کہتے ہیں اس کے بھی یہ معنی ہیں اور شریعت میں بھی ظلم وغیرہ کے یہ معنی مراد لئے جاتے ہیں، البتہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ موقعہ محل سے شرعی موقع و محل مراد لیا جائے یعنی شرعی طور پر ظلم وغیرہ کے یہ معنی مراد لئے جاتے ہیں، البتہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ موقع و محل سے شرعی موقع و محل مراد لیا جائے یعنی شرعی طور پر ظلم وغیرہ کا اطلاق اس چیز پر ہوگا جو شرعی محل سے بلاوجہ شرعی تجاوز کر جائے۔
Top