Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3652 - 3742)
Select Hadith
3652
3653
3654
3655
3656
3657
3658
3659
3660
3661
3662
3663
3664
3665
3666
3667
3668
3669
3670
3671
3672
3673
3674
3675
3676
3677
3678
3679
3680
3681
3682
3683
3684
3685
3686
3687
3688
3689
3690
3691
3692
3693
3694
3695
3696
3697
3698
3699
3700
3701
3702
3703
3704
3705
3706
3707
3708
3709
3710
3711
3712
3713
3714
3715
3716
3717
3718
3719
3720
3721
3722
3723
3724
3725
3726
3727
3728
3729
3730
3731
3732
3733
3734
3735
3736
3737
3738
3739
3740
3741
3742
مشکوٰۃ المصابیح - کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان - حدیث نمبر 5256
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِاَخْبِرْنِی بِعَمَلِ یُّدْخِلْنِیَ الْجَنَّۃَ وَیُبَا عِدُنِی مِنَ النَّارِ قَالَ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ اَمْرٍ عَظِیْمٍ وَاِنَّہ، لَیَسِیْرٌ عَلٰی مَنْ یَسَّرَہ، اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ تَعْبُدُ اﷲَ وَلَا تُشْرِکْ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَتُوْتِی الزَّکَاۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ ثُمَّ قَالَ اَلَآ اَدُلُّکَ عَلَی اَبْوَابِ الْخَیْرِ الصَّوْمُ جُنَّۃٌ وَالصَدَقَۃُ تُطْفِئُ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِیُ الْمَآءُ النَّارَ وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَوْفِ الْلَّیْلِ ثُمَّ تَلِاَ (تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِمْ) حَتَّی بَلَغَ یَعْمَلُوْنَ ثُمَّ قَالَ اَلَآ اَدُلُّکَ بِرَأْسِ الْاَمْرِوَعُمُوِدِہٖ وَذِرْوَۃِ سَنَامِہٖ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ رَأْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسَلَامُ وَعُمُوْدُہ، الصَّلَاُۃ وَذِرْوَۃُ سَنَامِہِ الْجِھَادِ ثُمَّ قَالَ اَلَا اُخْبِرُکَ بِمِلَاَک ذٰلِکَ کُلِّہٖ قُلْتُ بَلٰی یَانَبِیَّ اﷲِ فَأَخَذَ بِلِسَانِہٖ وَقَالَ کُفَّ عَلَیْکَ ھٰذَا فَقُلْتُ یَا نَبِیَّ اﷲِ وَاِنَّا لَمُؤَا خَذُوْنَ بَمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ قَالَ ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ یَامُعَاذُ وَھَلْ یَکُبُّ النَّاسُ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اَوْعَلٰی مَنَا خِرِھِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِھِمْ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل الترمذی وابن ماجۃ)
ارکان دین
حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی عمل ایسا بتا دیجئے جو مجھ کو جنت میں لے جائے اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے، آپ ﷺ نے فرمایا حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے لیکن جس پر اللہ تعالیٰ آسان کر دے اس کے لئے یہ بہت آسان بھی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز پابندی کے ساتھ ادا کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور خانہ کعبہ کا حج کرو، پھر اس کے بعد فرمایا اے معاذ! کیا تمہیں خیر و بھلائی کے دروازوں تک نہ پہنچادوں (تو سنو) روزہ (ایک ایسی) ڈھال ہے (جو گناہ سے بچاتی ہے اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھتی ہے) اور اللہ کی راہ میں کرچ کرنا گناہ کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے (اور اسی طرح) رات (تہجد) میں مومن کا نماز پڑھنا (گناہ کو ختم کردیتا ہے) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (جس میں تہجد گزاروں اور رات میں اللہ کی عبادت کرنے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس پوری آیت کا ترجمہ ہے) ان (مومنین صالحین) کے پہلو (رات میں) بستروں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف وامید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان (مومنین صالحین) کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ (انعام) ہے جو وہ کرتے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں اس چیز (یعنی دین) کا سر اور اس کے ستون اور اس کے کوہان کی بلندی نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! ضرور بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس چیز (دین) کا سر اسلام ہے، اس کے ستون نماز ہے اور اس کوہان کی بلندی جہاد ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا۔ کیا تمہیں ان تمام چیزوں کی جڑ نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا ہاں اللہ کے نبی ضرور بتائیے آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور (اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا اس کو بند رکھو۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ہم اپنی زبان سے جو بھی لفظ نکالتے ہیں ان سب پر مواخذہ ہوگا، آپ نے فرمایا معاذ! (دعا ثکتک امک) (تمہاری ماں تمہیں گم کر دے اچھی طرح جان لو کہ) (یہ ایک محا ورہ ہے جو عربی زبان میں اظہار تعجب کے لئے بولا جاتا ہے)۔ لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا پیشانی کے بل دوزخ میں گرانے والی اسی زبان کی (بری) باتیں ہوں گی۔ (مسند احمد بن حنبل، ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث میں دین کی تصویر بڑے نفیساتی انداز میں اجاگر کی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح کسی جسمانی وجود کا مدار سر پر ہوتا ہے کہ اگر سر کو اڑا دیا جائے تو جسمانی وجود بھی باقی نہیں رہے گا، اسی طرح ایمان و اسلام یعنی عقیدہ توحید و رسالت دین کے لئے بمننرلہ سر کے ہیں کہ اگر توحید و رسالت کے اعتقاد کو ہٹا دیا جائے تو دین کا وجود بھی باقی نہیں رہے گا، پھر جس طرح کسی جسمانی وجود کو برقرار رکھنے اور کار آمد بنانے کے لئے ستون اولین اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح دین کا ستون نماز ہے۔ نماز ہی وہ بنیادی طاقت ہے جو دین کے وجود کو وابستہ اور قائم رکھتی ہے اگر نماز کو ہٹا دیا جائے تو دین کو وجود اپنی اصلی حالت کی برقراری سے محروم ہوجائے۔ اور پھر جس طرح کسی جسمانی وجود کو باعظمت بنانے اور اس کی شوکت بڑھانے کے کسی امیتازی اور منفرد وصف و خصوصیت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جہاد ضرورت ہے جس پر دین کی عظمت و شوکت اور ترقی و وسعت کا انحصار ہے اگر جہاد کو (خواہ وہ قلم سے ہو یا زبان سے اور خواہ تلوار سے ہو یا تبیلغی جدوجہد سے) اہل اسلام کے ملی وصف سے خارج کردیا جائے تو دین ایک بےشکوہ اور بےاثر ڈھانچہ بن کر رہ جائے۔ حدیث کا آخری حصّہ زبان سے متعلق اس ہدایت پر مشتمل ہے جو دین کو اضمحلال اور دینی گندگی کو گھن سے بچانے کے لئے ایک بڑے نفسیاتی نکتہ کی غماز ہے۔ مطلب یہ کہ دین کے وجود، دین کے بقا اور دین کی عطمت و شوکت کو پہنچانے کی جڑ زبان ہے زبان کو قابو میں رکھنا دین و دنیا کی فلاح و نجات کا پیش خیمہ ہے اور زبان کو بےقابو چھوڑ دینا خود کو دین و دنیا کی تباہی کی طرف دھکیل دینا ہے لہٰذا لازم ہے کہ زبان بند رکھی جائے یعنی منہ سے ایسے الفاظ نہ نکالے جائیں جو برائی فحاشی اور بدکلامی کے حامل ہوں، وہ برے کلام جو کفر امیز یا گناہ اور فحاشی کے ہوں، یا کسی کی غیبت کرنا، جھوٹ بولنا اور یا الزام تراشی کرنا ایسی برائیاں ہیں جن سے زبان و ذہن کی حفاظت نہ کی گئی تو سمجھ لو دوزخ کا عذاب سامنے ہے۔ دین و دنیا کی بھلائی چاہنے والے اور ابدی نجات وسعادت کے طلب گار اسی لئے اپنی زبان پر قابو رکھتے ہیں کہ نہ معلوم کب اس سے کوئی ایسا لفظ و کلام نکل جائے جس سے کفر بکنا یا گناہ و معصیت کی بات کہنا لازم آجائے اور پھر اس کی پاداش میں اللہ کا عذاب بھگتنا پڑے۔ درحقیقت زبان بہت بڑی وجہ سعات بنتی ہے جب اس سے نیک کلام اچھی باتیں، خیر و بھلائی کے الفاظ اور وعظ و نصیحت کے جملے نکلتے ہیں، دنیا و آخرت میں اسی انسان کا رتبہ بلند مانا جاتا ہے جو زبان کی عطمت و تقدیس کو ہر حال میں ملحوظ رکھے۔ بدکلامی اور بری باتوں سے بہر صورت اجتناب کرتا ہوں۔
Top