Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (2047 - 2238)
Select Hadith
2047
2048
2049
2050
2051
2052
2053
2054
2055
2056
2057
2058
2059
2060
2062
2063
2064
2065
2066
2067
2068
2069
2070
2071
2072
2073
2074
2075
2076
2077
2078
2079
2080
2081
2082
2083
2084
2085
2086
2087
2088
2089
2090
2091
2092
2093
2094
2095
2096
2097
2098
2099
2100
2101
2102
2103
2104
2105
2106
2107
2108
2109
2110
2111
2112
2113
2114
2115
2117
2118
2119
2120
2121
2122
2123
2125
2126
2127
2128
2129
2130
2131
2132
2133
2134
2135
2136
2137
2138
2139
2140
2141
2142
2143
2144
2145
2146
2147
2148
2149
2150
2151
2152
2153
2155
2156
2157
2158
2159
2160
2161
2162
2163
2164
2165
2166
2167
2168
2169
2170
2171
2172
2174
2175
2176
2177
2178
2180
2182
2183
2185
2186
2187
2188
2189
2190
2191
2192
2193
2194
2195
2196
2197
2198
2200
2201
2203
2204
2205
2206
2207
2208
2209
2210
2211
2212
2213
2214
2215
2216
2217
2218
2219
2220
2221
2222
2223
2224
2225
2226
2227
2228
2229
2230
2231
2232
2234
2235
2236
2237
2238
مشکوٰۃ المصابیح - کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان - حدیث نمبر 53
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالَ ص قَالَ یَھُوْدِیٌ لِصَاحِبِہٖ اِذْھَبْ بِنَا اِلٰی ہٰذَاالنَّبِیِّ فَقَالَ لَہُ صَاحِبُہُ لَا تَقُلْ نَبِیُّ اِنَّہُ لَوْ سَمِعَکَ لَکَانَ لَہُ اَرْبَعُ اَعْیُنٍ فَاَتَیَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمفَسَاَ لَہُ عَنْ تِسْعِ اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلملاَ تُشْرِکُوْ ابِاﷲِ شَیْأً وَلَا تَسْرِ قُوْا وَلَا تَزَنُوْا َو لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اﷲُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا َتمْشُوْا اِلٰی ذِیْ سُلْطَانٍ لِیَقْتَلَہُ وَلَا تَسْحَرُوْا وَلَا تَاْکُلُوْا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوْا مُحْصِنَۃٌ وَلَا تَوَلُّوْا لِلْفِرَارِیَوْمَ الزَّحْفِ وَ عَلَیْکُمْ خَاصَّۃً الیَھُوْدَ اَن لَّا تَعْتَدوْا فِیْ السَّبْتِ قَالَ فَقَبَّلَا یَدَیْہِ وَرِجْلَیْہِ وَقَالَا نَشْھَدُ اَنَّکَ نَبِیٌّ قَالَ فَمَا یَمْنَعُکُمْ اَنْ تَتَّبِعُوْنِیْ ؟ قَالَ اِنَّ دَاؤدَ عَلَیْہِ اسَّلَامُ دَعَارَبَّہَ اَنْ لَّایَزَالَ مِنْ ذُرِّیَّتِہٖ نَبِیٌّ وَاِنَّا نَخَافُ اِنْ تَبِعْنَاکَ اَنْ یَقْتُلَنَا الْیَھُوْدُ۔ (رواہ الجامع ترمذی وابوداؤ و السنن نسائی )
منافق کی مثال
حضرت صفواں بن عسال ( صفوان بن عسال مرادی کی نسبت سے مشہور ہیں حضرت علی المرتضیٰ کے دور خلافت میں آپ کا انتقال ہوا)۔ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ایک یہودی نے اپنے ایک (یہودی) ساتھی سے کہا کہ آؤ اس نبی ﷺ کے پاس چلیں! اس کے ساتھی نے کہا! انہیں نبی نہ کہو، کیونکہ اگر انہوں نے سن یا (کہ یہودی بھی مجھے نبی فرماتے ہیں) تو ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی (یعنی خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے) بہر حال وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ سے نو واضح احکام کے بارے میں سوال کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کا ناحق قتل نہ کرو، کسی بےگناہ کو قتل کرانے کے لئے ( اس پر غلط الزام عائد کر کے) حاکم کے پاس مت لے جاؤ، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ پاک دامن عورت کو (زنا کی) تہمت نہ لگاؤ، میدان جنگ میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤ اور اے یہودیو! تمہارے لئے خاص طور پر واجب ہے کہ یوم شنبہ کے معاملہ میں (حکم الہٰی سے) تجاوز نہ کرو، راوی فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) دونوں یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پیر چوم لئے اور بولے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ واقعی نبی ہیں۔ سرکار ﷺ نے فرمایا (جب تمہیں میری رسالت پر یقین ہے تو) میری اتباع سے تم کو کون سا امر مانع ہے؟ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ نبی ہوا کرے لہٰذا ہم ڈرتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ کی پیروی کریں تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے اللہ کی جانب سے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ نبوت کی دلیل طور پر ان کو جو دو بڑے معجزے عطا کئے گئے تھے ان میں ایک عصا تھا عصا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سب سے بڑا معجزہ تھا جس کے ذریعہ وہ بڑے بڑے کام انجام دیا کرتے تھے۔ چناچہ جب فرعون کی جانب سے ان کے اور اس زمانہ کے مشہور ساحروں اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہوا تو اللہ نے ان کو عصا ہی کے ذریعے اس طرح کامیابی عنایت فرمائی کہ ان جادو گروں نے جب اپنے سحر و جادو کے بل بوتہ پر رسیوں کو سانپ بنا کر زمین پر ڈالا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا جس نے دیکھتے دیکھتے ایک عظیم اور ہیبت ناک اژدھے کا روپ دھار کر تمام سانپوں کو نگل لیا۔ اس طرح ان کا دوسرا بڑا معجزہ یدبیضا تھا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنا دست مبارک بغل میں ڈال کر باہر نکالتے تو وہ آفتاب کی مانند شعاعیں بکھیرنے لگتا تھا۔ اتنے بڑے معجزوں کے باوجود جب ان کی قوم راہ راست نہیں آئی تو اللہ نے ان کو بلائے عام میں اس طرح مبتلا کردیا کہ ان پر قحط مسلط کردیا اور ان کے پھلوں کی پیداوار میں کمی کردی پھر بعد میں جب ان کی سرکشی اور نافرمانیاں اور زیادہ بڑھیں تو ان پر مختلف قسم کے عذاب بھیجے جانے لگے۔ مثلاً بارش اتنی کثرت سے برسادی گئی کہ طوفان نے ان کو آگھیرا، ان کے کھیتوں پر ٹڈیاں بھیج دی گئیں جس کی وجہ سے ان کی تیار فصلیں تباہ و برباد ہونے لگی، یا ان کے غلوں میں گھن کا کیڑا لگا دیا جس نے ان کے غلوں کے انبار کو ختم کرنا شروع کردیا، ان پر مینڈک کا عذاب بھیج دیا گیا کہ ان کی ہر چیز میں خواہ کھانے کی ہو یا پینے کی مینڈک ہی مینڈک ہوگئے اور پھر ان کا پانی خون کردیا گیا کہ جب بھی وہ پانی پیتے وہ خون کی شکل اختیار کرلیتا۔ بہر حال یہ نو چیزیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور ان کی نبوت کی خاص نشانیاں تھیں۔ اس حدیث میں ان دونوں یہودیوں نے جن نو واضح احکام کے بارے میں سوال کیا، ان سے یا تو وہی احکام مراد تھے جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمائے یا پھر ان کی مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے انہی نو معجزات اور نشانیوں کے بارے میں سرکار دو عالم ﷺ کی زبان مقدس سے آگاہی اور توثیق حاصل کرنا تھی اس صورت میں کہا جائے گا کہ یا تو خود رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ یہ قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں اور جو ضروری احکام تھے ان کا حکم ان کو بتادیا، یا یہ کہ ان کے سوال کے جواب میں ان نو چیزوں کا ذکر فرما کر پھر ان کو اپنی طرف سے یہ احکام دیئے اور راوی نے ان کے مشہور ہونے کی وجہ سے ان کا ذکر نہیں کیا۔ راہی اس خاص حکم کی بات جو رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ نو احکام کے علاوہ خاص طور پر یہودیوں کو دیا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح تمام قوموں کے لئے ہفتہ میں ایک دن عبادت کے لئے مخصوص تھا اسی طرح یہودیوں کے لئے بھی شنبہ کا دن عبادت کے لئے متعین کردیا گیا تھا اور ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس دن اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کریں چونکہ یہ قوم شکار کا خاص ذوق اور شغف رکھتی تھی اس لئے ان کو اس دن شکار سے بھی منع کردیا گیا، لیکن اس قوم نے اس حکم کو کوئی اہمیت نہیں دی اور سخت ممانعت کے باوجود اس دن مچھلی وغیرہ کا شکار کرنے لگے، اللہ کی جانب سے ان کو بار بار متنبہ کیا گیا لیکن جب نہیں مانے تو آخر کار ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا گیا! اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان یہودیوں کو اس کے بارے میں بطور خاص تاکید کی کہ تم اس معاملہ میں اللہ کی قائم کی ہوئی حد سے تجاوز نہ کرو اور چونکہ تمہیں اس دن شکار کھیلنے سے منع کردیا گیا ہے اس لئے اس ممانعت پر عمل کرو اور اس حکم کی نافرمانی مت کرو۔ ان یہودیوں کا رسول اللہ ﷺ سے احکام سن کر آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دینا بطور قبول اور صدق دل سے نہیں تھا بلکہ اپنے علم کے اظہار اور اعتراف کے طور پر تھا۔ مطلب یہ کہ یہودیوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کا نبی مرسل ہونا پڑھ لیا تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ محمد واقعۃً اللہ کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول ہیں۔ مگر یہ ان کی بدبختی تھی کہ اس صحیح علم کے باوجود ان کو قبول اسلام کی توفیق نہیں ہوتی تھی اور تعصب و ہٹ دھرمی نے ان کو اتنا اندھا کردیا تھا کہ ان کو بالکل سامنے کی راہ حق نظر نہیں آتی تھی۔ چناچہ ان دونوں یہودیوں نے بھی اس موقع پر بس اتنا ہی کیا کہ اپنے علم کا اعتراف کرلیا اور گواہی دی کہ آپ ﷺ واقعۃً اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ظاہر ہے کہ محض علم ہونا یا اپنے علم کا اعتراف کرنا وجود ایمان کے لئے کافی نہیں ہوسکتا ہے۔ رہا ان دونوں یہودیوں کا یہ کہنا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ ایک نبی ہوا کرے اور ان کی یہ دعا چونکہ یقینا قبول ہوئی ہوگی اس لئے ان کی اولاد میں سے کسی کا نبی ہونا بھی یقینی ہے اور جب وہ نبی ظاہر ہوگا اور تمام یہودی اس نبی کے تابع و مطیع ہو کر شوکت و غلبہ پائیں گے تو پھر ہماری شامت آجائے گی۔ یعنی تمام یہودی ہمیں اس جرم میں مار ڈالیں گے کہ ہم نے آپ کا دین کیوں قبول کیا۔ اس خوف سے ہم آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ان دونوں یہودیوں کا حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرف ایک غلط بات کی نسبت کرنا اور یقینی طور پر کہ ایک مفروضہ اور واہمہ تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ہرگز یہ دعا نہیں کی تھی اور وہ اس طرح کی دعا کرتے بھی کیسے، انہوں نے تو خود تو رات اور زبور میں پڑھ رکھا تھا کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کا دین تمام دینوں کا ناسخ ہے۔
Top