مشکوٰۃ المصابیح - کفاروں کا بیان۔ - 3842
جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا حقیقی مالک و فرما روا مانتے ہیں اور اس کے اتارے ہوئے قانون کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں ان کو اس بات کا ذمہ دار بنایا گیا ہے کہ وہ پوری کائنات کو خدائے بزرگ و برتر کے احکام کی تبلیغ کریں اور گم کردہ گان راہ ہدایت کو ضلالت و تباہی کے راستوں سے ہٹا کر خدائے واحد کی اطاعت و فرمانبرداری کی صراط مستقیم پر لے آئیں اور اس طرح روئے زمین پر اللہ کا نام اور اس کے جھنڈا سربلند کریں اور جو لوگ (کفار) اس تبلیغ کے باوجود سرکشی وتمرد سے باز نہ آئیں اور اللہ کے دین کے جھنڈے کو سرنگوں کرنے کی ناپاک جسارت کریں اور اس روئے زمین پر مالک حقیقی کے احکام کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالیں اور گویا دوسرے لفظوں میں وہ اپنے عقائد و کردار کے ذریعہ اللہ کی سر زمین پر فتنہ و فساد کا بازار گرم کریں ان کے خلاف تلوار اٹھائی جائے اور ان سے اس وقت تک جنگ کی جائے جب تک کہ وہ اپنے تمرد اور اپنی سرکشی سے باز آ کر خدائے واحد کی حاکمیت اعلیٰ کا اقرار نہ کرلیں۔ یا جزیہ (ٹیکس) ادا کر کے اسلامی مملکت کا وفادار شہری بننا قبول نہ کرلیں۔ کفار کے خلاف اعلان جنگ سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے : اسلام نے یہ ضابطہ مقرر کیا ہے کہ مخالفین اسلام کے خلاف اس وقت اعلان جنگ نہ کیا جائے جب تک کہ ان کو اسلام کی دعوت نہ دی جائے۔ چناچہ اسلامی قانون کے مطابق کفار سے جنگ کرنے سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے سے پہلے ان سے جنگ کرنا حرام ہے بشرطیکہ کہ ان کو اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو۔ اور اگر ان کو اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے تو اس صورت میں جنگ سے پہلے ان کو پھر دوبارہ اسلام کی دعوت دینا مستحب ہے۔ اسلام کی دعوت دینے کے مختلف طریقے ہیں انہی میں سے ایک طریقہ خط و کتابت بھی ہے خاص طور پر سربراہان مملکت، سلاطین اور امراء کو عام طور پر خط و کتابت ہی کے ذریعہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختلف غیر مسلم بادشاہوں اور سربراہان مملکت وقوم جیسے قیصر، کسری اور نجاشی کو مکتوبات گرامی ارسال فرمائے جن میں انہیں ضلالت و تباہی کا راستہ چھوڑ کر اسلام کے سیدھے راستے پر آنے کی دعوت دی گئی۔ منقول ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ تشریف لائے اور قیصر روم کو مکتوب بھیجنے کا ارادہ کیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ شاہان روم وایران کا دستور یہ ہے کہ وہ کسی تحریر کو اس وقت تک مستند نہیں مانتے جب تک اس پر مہر نہ لگی ہوئی ہو۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہر کے لئے چاندی کی انگوٹھی تیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور اس میں تین سطریں کندہ کرائیں اور ان تینوں سطروں میں اپنا اسم مبارک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح نقش کرایا کہ اوپر کی سطر میں " اللہ " درمیانی سطر میں " رسول " اور نیچے کی سطر میں " محمد " تھا ! اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بادشاہوں کے نام مکتوب ارسال فرمائے ان پر یہ مہر ثبت فرمائی۔ طبرانی نے یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ کر امۃ الکتاب ختمہ یعنی مکتوب کی عظمت اس کی مہر ہے۔
Top