Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (4067 - 4162)
Select Hadith
4067
4068
4069
4070
4071
4072
4073
4074
4075
4076
4077
4078
4079
4080
4081
4082
4083
4084
4085
4086
4087
4088
4089
4090
4091
4092
4093
4094
4095
4096
4097
4098
4099
4100
4101
4102
4103
4104
4105
4106
4107
4108
4109
4110
4111
4112
4113
4114
4115
4116
4117
4118
4119
4120
4121
4122
4123
4124
4125
4126
4127
4128
4129
4130
4131
4132
4133
4134
4135
4136
4137
4138
4139
4140
4141
4142
4143
4144
4145
4146
4147
4148
4149
4150
4151
4152
4153
4154
4155
4156
4157
4158
4159
4160
4161
4162
مشکوٰۃ المصابیح - آداب کا بیان - حدیث نمبر 5357
قیامت کی علامتوں کا بیان
شرط (را کے جزم کے ساتھ) کے معنی ہیں۔ کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ وابستہ کرنا یا کسی چیز کا لازم کرنا جیسا کہ یوں کہا جائے اگر ایسا ہو تو ایسا ہوگا! اس کی جمع شروط آتی ہے شرط (را کے زبر کے ساتھ) کے معنی ہیں علامت یعنی وہ چیز جو کسی وقوع پذیر ہونے والی چیز کو ظاہر کرے! اس کی جمع اشراط ہے پس یہاں سے اشراط سے مراد وہ نشانیاں اور علامتیں ہیں جو قیامت کے وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کریں گی۔ ویسے لغت میں شرط کے معنی کسی چیز کا اول، مال کا زوال اور چھوٹا و کمتر مال لکھے ہیں۔ ساعۃ شب و روز کے اجزاء میں سے کسی بھی ایک جزء کو کہتے ہیں یہ لفظ موجودہ وقت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پس قیامت یا قیامت کے آنے کو ساعت اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ جب اس کا وقت غیر معلوم ہے تو وہ کسی بھی وقت آسکتی ہے یہاں تک آنے والا لمحہ یہ احتمال رکھتا ہے کہ اسی وقت قیامت نہ آجائے۔ علماء نے وضاحت کی ہے کہ اشراط ساعت یعنی قیامت کی علامتوں سے مراد وہ نسبتا چھوٹی چیزیں ہیں جو قیامت آنے سے پہلے وقوع پذیر ہوں گی اور جن کو لوگ قیامت کی علامتیں تسلیم نہیں کریں گے مثلا لونڈی کا اپنے مالک کو جننا، فلک بوس عمارتیں بنانا اور ان پر فخر کرنا، جہل ونادانی، زنا کاری اور شراب خوری کی کثرت، مردوں کی کمی اور عورتوں کی زیادتی، امانتوں میں خیانت وبدیانتی، لڑائیوں اور فتنہ فساد کی زیادتی اور اس طرح کی دوسری برائیوں کا ذکر اس باب میں آئے گا۔ اشراط کی وضاحت اس معنی کے ساتھ اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ بڑی علامتیں کہ جو قیامت کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی اور جن کا ذکر اگلے باب میں ہوگا، ان چھوٹی علامتوں کے علاوہ ہیں! رہی یہ بات کہ لوگ مذکورہ بالا چیزوں کو قیامت کی علامتیں تسلیم کرنے سے کیوں انکار کریں گے! تو اس کی وجہ اصل میں یہ ہوگی کہ اس طرح کی چیزیں اس دنیا میں ہمیشہ سے چلی آرہی ہیں، پس لوگ یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ چیزیں تو دنیا میں ہوتی رہتی ہیں، اب ان میں کیا خصوصیت پیدا ہوگئی ہے کہ ان کو قیامت کی علامتیں کہا جائے۔ واضح رہے کہ مذکورہ چیزوں کا محض وجود قیامت کی علامت نہیں ہے بلکہ ان چیزوں کا کثرت کے ساتھ وقوع پذیر ہونا اور ان برائیوں کا غیر معمولی طور پھیل جانا ہے، قیامت کی علامت ہے! ایک بات اور بتا دینی ضروری ہے کہ اس باب میں حضرت امام مہدی کے ظاہر ہونے کا بھی ذکر ہے، جب کہ ان کا ظاہر ہونا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور دجال کے پیدا ہونے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، لہذا اس بارے میں کوئی اشکال واقع نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس باب میں حضرت مہدی (علیہ السلام) کے ظاہر ہونے کا ذکر، لڑائیوں اور فتنوں کے ذکر کے ضمن میں ہوا ہے نہ کہ مستقل طور پر اس سلسلہ میں مزید وضاحت اگلے باب میں ہوگی۔
Top