Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (7417 - 7522)
Select Hadith
7417
7418
7419
7420
7421
7422
7423
7424
7425
7426
7427
7428
7429
7430
7431
7432
7433
7434
7435
7436
7437
7438
7439
7440
7441
7442
7443
7444
7445
7446
7447
7448
7449
7450
7451
7452
7453
7454
7455
7456
7457
7458
7459
7460
7461
7462
7463
7464
7465
7466
7467
7468
7469
7470
7471
7472
7473
7474
7475
7476
7477
7478
7479
7480
7481
7482
7483
7484
7485
7486
7487
7488
7489
7490
7491
7492
7493
7494
7495
7496
7497
7498
7499
7500
7501
7502
7503
7504
7505
7506
7507
7508
7509
7510
7511
7512
7513
7514
7515
7516
7517
7518
7519
7520
7521
7522
صحيح البخاری - ذبیحوں اور شکار کا بیان - حدیث نمبر 6082
عن جابر بن عتيك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيأتيكم ركيب مبغضون فإذا جاؤكم فرحبوا بهم وخلوا بينهم وبين ما يبتغون فإن عدلوا فلأنفسهم وإن ظلموا فعليهم وأرضوهم فإن تمام زكاتكم رضاهم وليدعوا لكم . رواه أبو داود
عاملین کو خوش رکھو
حضرت جابر بن عتیک ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس ایک چھوٹا سا قافلہ آئے گا (یعنی زکوٰۃ وصول کرنے کے عامل آئیں گے) جو مبغوض ہوں گے (یعن طبعی طور پر تم ان سے متنفر ہوں گے کیونکہ وہ ان کا مال لینے آئیں گے) لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم انہیں مرحبا کہو اور ان کی خدمت میں زکوٰۃ کا مال حاضر کردو گویا ان کے اور ان کی طلب کردہ چیز یعنی زکوٰۃ کے درمیان کوئی چیز حائل و مانع نہ رکھو۔ لہٰذا اگر وہ زکوٰۃ لینے کے بارے میں عدل سے کام لیں گے تو یہ اپنے لئے کریں گے کہ عدل کا ثواب پائیں گے اور اگر ظلم کا معاملہ کریں گے تو اس کا وبال ان پر ہوگا تم تو زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو اور جان لو کہ تمہاری طرف سے پوری زکوٰۃ کی ادائیگی ہی ان کی رضا مندی ہے نیز حائل وصول کرنے والے کو چاہئے کہ وہ تمہارے لئے دعا کرے۔ ( ابوداؤد )
تشریح
وان ظلموا اور اگر ظلم کا معاملہ کریں گے۔ کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ وصول کرنے کے معاملہ میں اگرچہ تم اپنے گمان و طبیعت کے مطابق یہی کیوں نہ جانو کہ عامل تمہارے ساتھ ظلم کر رہا ہے پھر بھی ان کو راضی کرو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر بفرض محال وہ ظلم بھی کریں تو تم ان کی رضا کا پھر بھی خیال کرو، اس صورت میں کہا جائے گا کہ آپ ﷺ نے یہ جملہ بطور مبالغہ کے ارشاد فرمایا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ عامل کو راضی کرنے کی کتنی اہمیت ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص حقیقۃً اور واقعۃً ظلم ہی کرے تو اس کو راضی کرنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ وارضوھم کا مطلب جیسا کہ خود حدیث میں بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ تم زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو خوش و راضی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑو بایں طور کہ زکوٰۃ کا جو مال تم پر شرعی طور پر واجب ہے اس کی ادائیگی میں خیانت اور کوتاہی کا معاملہ نہ کرو بلکہ انہیں پوری زکوٰۃ ادا کرو۔ اگرچہ ادائیگی زکوٰۃ کا اصل فریضہ مال ادا کرتے ہی پورا ہوجاتا ہے پھر بھی زکوٰۃ وصول کرنے والے کو خوش کرنا ادائیگی زکوٰۃ کا جزو کمال ہے لہٰذا اس بارے میں بھی احتیاط رکھنے کی ضرورت ہے۔ جو شخص زکوٰۃ وصول کرنے جائے اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ زکوٰۃ دینے والے کے حق میں رحمت و برکت اور خیر و بھلائی کی دعا کرے۔
Top