Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (4454 - 4709)
Select Hadith
4454
4455
4456
4457
4458
4459
4460
4461
4462
4463
4464
4465
4466
4467
4468
4469
4470
4471
4472
4473
4474
4475
4476
4477
4478
4479
4480
4481
4482
4483
4484
4485
4486
4487
4488
4489
4490
4491
4492
4493
4494
4495
4496
4497
4498
4499
4500
4501
4502
4503
4503
4504
4505
4506
4507
4508
4509
4510
4511
4512
4513
4514
4515
4516
4517
4518
4519
4520
4521
4522
4523
4524
4525
4526
4527
4528
4529
4530
4531
4532
4533
4534
4535
4536
4537
4538
4539
4540
4541
4542
4543
4544
4545
4546
4547
4548
4549
4550
4551
4552
4553
4554
4555
4556
4557
4558
4559
4560
4561
4562
4563
4564
4565
4566
4567
4568
4569
4570
4571
4572
4573
4574
4575
4576
4577
4578
4579
4580
4581
4582
4583
4584
4585
4586
4587
4588
4589
4590
4591
4592
4593
4594
4595
4596
4597
4598
4599
4600
4601
4602
4603
4604
4605
4606
4607
4608
4609
4610
4611
4612
4613
4614
4615
4616
4617
4618
4619
4620
4621
4622
4623
4624
4625
4626
4627
4628
4629
4630
4631
4632
4633
4634
4635
4636
4637
4638
4639
4640
4641
4642
4643
4644
4645
4646
4647
4648
4649
4650
4651
4652
4653
4654
4655
4656
4657
4658
4659
4660
4661
4662
4663
4664
4665
4666
4667
4668
4669
4670
4671
4672
4673
4674
4675
4676
4677
4678
4679
4680
4681
4682
4683
4684
4685
4686
4687
4688
4689
4690
4691
4692
4693
4694
4695
4696
4697
4698
4699
4700
4701
4702
4703
4704
4705
4706
4707
4708
4709
مشکوٰۃ المصابیح - معاملات میں احتراز اور توقف کرنے کا بیان - حدیث نمبر 4944
وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كاد الفقر أن يكون كفرا وكاد الحسد أن يغلب القدر
حسد اور افلاس کی برائی۔
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فقر افلاس و قریب ہے کہ کفر کی حد تک پہنچا دے اور حسد قریب ہے کہ تقدیر پر غالب آجائے۔
تشریح
حدیث کے پہلے جز کا مطلب یہ ہے کہ فقر و افلاس اور تنگدستی ایسی بری چیز ہے کہ بسا اوقات انسان اس سے مجبور ہو کر کفر کی حد تک پہنچ سکتا ہے چناچہ جو فقیر مفلس، صبر استقامت کی طاقت کھو کر قلبی افلاس میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ اللہ کی ذات پر اعتماد بھروسہ کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت مایوسی کے عالم میں اللہ کے نظام قدرت پر اعتراض کرنے لگتا ہے یا تقدیر الٰہی کا شکوہ گلا کر کے اللہ کے حکم و فیصلہ پر ہر حالت میں راضی رہنے کے تقاضا کو پس پشت ڈال دیتا ہے یا اللہ کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے غیر اللہ کے سامنے دست سوال کرنے لگتا ہے اور ماسواء اللہ کو اپنا حاجت روا ماننے لگتا ہے اور یا جب وہ دیکھتا ہے کہ اکثر کافر مال دار ہیں اور عیش کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کے برخلاف اکثر مسلمان افلاس تنگدستی کی آزمائش میں مبتلا ہیں تو وہ کفر کی طرف مائل ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ یہ چیزیں انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فقر و افلاس در اصل مسلمانوں کے لئے ایک آزمائش اور امتحان کا درجہ رکھتا ہے چناچہ جو لوگ اس حقیقت کو جانتے ہیں اور مال و دولت اور دنیاوی زندگی کے اعتبار سے مفلس و قلاش ہونے کے باوجود اپنے دل کو غنی رکھتے ہیں اور تقدیر الٰہی پر صابر و شاکر رہ کر اس امتحان و آزمائش میں پورے اترتے ہیں ان کے حق میں وہی فقر و افلاس ایمان کی پختگی اور ترقی درجات کا ضامن بن جاتا ہے لہذا جو مسلمان مال و دولت سے نہی دست اور فقر و افلاس میں مبتلا ہوں اور تمام تر انسانی تدابیر اور محنت و مشقت کے باوجود تنگی حالات سے نجات نہ پاتے ہوں ان کو چاہے کہ وہ اپنی اس حالت کو اللہ کی طرف سے امتحان و آذمائش سمجھیں اور یہ یقین کرلیں کہ یہ دنیا اور دنیا کی ساری پریشانیاں مرد مومن کے لئے ایک ایسا وقفہ حیات ہے جس میں اگر صبر و استقامت اور اللہ کی ذات پر توکل کی دولت نصیب ہوگئی تو کبھی نہ کبھی دنیا میں بھی حالات تبدیل ہوسکتے ہیں اور آخرت کی فلاح و کامیابی تو یقینا نصیب ہوگی اور یہاں کی ساری کلفتیں اور پریشانیاں وہاں کی بےپایاں نعتموں اور لازوال آسائشوں میں تبدیل ہوجائیں گی حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے اور جو مسلمان اس قید خانہ کی تکلیف و مصائب کو خندہ پیشانی کے ساتھ انگیز کرلے ان کے لئے اللہ نے آخرت کی بےپایاں انعامات کا وعدہ کیا ہے قرآن کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے۔ آیت (لایغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد)۔۔۔۔۔ الخ۔۔ اے مومن تجھ کو ان کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا مغالطہ میں نہ ڈالے کیونکہ یہ چند روزہ بہار ہے پھر ان کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے دوزخ ہوگا وہ برا ہی مقام ہے لیکن جو لوگ اللہ سے ڈریں اور مسلمان ہوجائیں ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ ان کی مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو چیزیں اللہ کے پاس ہیں یہ نیک بندوں کے لئے بدرجہا بہتر ہیں۔ منقول ہے کہ بعض صحابہ جب کفار مشرکین کی تجارتی سرگرمیوں ان کے یہاں مال و دولت کی ریل پیل کو دیکھتے اور ان کو دنیا کی راحت و آسائش میں دیکھتے تو ان کی زبان پر یہ الفاظ آجاتے تھے کہ یہ لوگ جو اللہ کے دشمن ہیں ان کا حال تو ہم بڑا اچھا دیکھتے ہیں لیکن ہم محنت و مشقت کی سختیوں اور افلاس بھوک کی جانکاہیوں سے دم توڑتے نظر آ رہے ہیں اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو بتایا گیا کہ دنیا کا یہ آرام و چین اور یہاں کی ساری عیاشی چند روزہ ہے ان کو جلد ہی فنا ہوجانا ہے لیکن تمہیں آخرت کا جو آرام و چین اور وہاں کی جو آسائشیں اور راحت نصیب ہونے والی ہے وہ لازوال ہیں جن کو کبھی فنا نہیں آئے گی لہذا تم لوگ فنا ہونے والے چین اور چند روزہ کی راحت کی تمنا نہ کرو بلکہ ان نعمتوں کے امیدوار رہو جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں۔ جس طرح فقر و افلاس بسا اوقات کفر کی حد تک پہنچا دیتا ہے اسی طرح بسا اوقات مال و دولت کی زیادتی بھی گمراہ کردیتی ہے دولت مندی کا نشہ انسان کو تمردو سرکشی میں مبتلا کردیتا ہے اور حد سے زیادہ راحت و آسائش کا فتنہ گناہ معصیت کے اندھیروں میں پھینک دیتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ خواہ مالداری ہو یا افلاس ان دونوں کا معتدل طور پر رہنا زندگی کو گمراہی کی ضلالت سے بچا سکتا ہے چناچہ وہ فقر افلاس جس کو انگیز کیا جاسکتا ہو مایوسی اور کفر کی حد تک پہنچنے سے روکے رکھتا ہے اور بقدر ضرورت مال و دولت کا ملنا سرمایہ داری کے نشہ سے محفوظ رکھتا ہے جس کی وجہ سے تمرد سرکشی اور گناہ و معصیت کا خدشنہ نہیں رہتا لہذا خیر الامور اوسطھا کا اصول ان دونوں پر بھی صادق آتا ہے۔ حدیث کے دوسرے جز اور حسد قریب ہے کہ تقدیر الٰہی پر غالب آجائے گا مطلب یہ ہے کہ بفرض محال کوئی ایسی چیز ہوتی جو تقدیر پر غالب آجاتی اور اس کو بدل دینے کی طاقت رکھتی تو وہ حسد ہوتا اور بعض حضرات نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حسد، حاسد کو اس گمراہ کن گمان تک لے جاتا ہے کہ وہ تقدیر الٰہی کو بھی بدل سکتا ہے۔
Top