مشکوٰۃ المصابیح - نرمی و مہربانی حیاء اور حسن خلق کا بیان - 4947
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين . متفق عليه
" حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
لدغ کے معنی ہیں ڈسنا، سانپ اور بچھو کا کاٹنا، جحر سوراخ اور بل کو کہتے ہیں جو سانپ اور بچھو وغیرہ کا مسکن ہوتا ہے۔ حدیث کا مقصد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ مومن دانا جو حق و انصاف کا علم بردار اور دین کا حامی و محافظ ہوتا ہے اس کی شان یہ ہے کہ وہ کسی عہد شکن اور سرکش سے، جو دین کا دشمن ہے درگزر نہ کرے اللہ کی راہ میں اور اللہ کی خاطر اس کو اپنے غضب و انتقام کا نشانہ بنانے سے نہ چوکے، بار بار حلم و بردباری اور چشم پوشی کا رویہ اختیار نہ کرے اور اس کے دھوکہ میں نہ آئے واضح رہے کہ کسی دنیاوی معاملہ میں فریب کھا جانا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا مگر کسی دین کے معاملہ میں فریب نہ کھانا چاہیے۔ علماء نے لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد گرامی میں جس حکیمانہ اصول کی طرف اشارہ کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک عظیم الشان تعلیم ہے جس کی بنیاد دین کی رعایت و حمایت اور دشمنان دین کے شر و فساد کی بیخ کنی ہے۔ مذکوہ بالا ارشاد گرامی کا پس منظر یہ ہے کہ زمانہ رسالت میں عرب کا ایک مشہور شاعر ابوغرہ تھا اور اس کا تعلق کفار کے اس طبقہ سے تھا جو اسلام، ذات رسالت پناہ اور مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت اور سب شتم کے پہاڑ تراشنے پر مامور تھے چناچہ وہ اپنے اشعار کے ذریعہ مسلمانوں کی ہجو کیا کرتا تھا اور اپنی قوم کے شریر لوگوں کو مسلمانوں کی ایذاء و اہانت پر اکسایا کرتا تھا جب بدر کے میدان میں حق باطل کے درمیان پہلی معرکہ آرائی ہوئی اور اللہ نے اپنے مٹھی بھر بندوں کو دشمنان دین پر فتح عطا فرمائی اور مکہ کے بہت سارے کفار جس میں ان کے زعماء و اساطین بھی تھے قیدی بنا کر مدینہ منورہ لے گئے تو ان میں وہ بدبخت شاعر ابوغرہ بھی تھا اس نے بارگاہ رسالت میں اپنے پچھلے سیاہ ناموں پر اظہار ندامت کیا اور عفو خواہی کے ساتھ یہ عہد کیا کہ اب میں کبھی بھی ایسے افعال بد کے پاس نہیں پھٹکوں گا۔ چناچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بدبخت پر رحم و کرم کرنے کا موقع مل گیا اور آپ نے اس کے عہد و پیمان کی بنیاد پر اس کو رہا کردیا لیکن اس کی ازلی شفاعت و بدبختی نے اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا اور وہ اپنی قوم میں پہنچ کر پہلی روش پر چلنے لگا یہاں تک کہ اللہ نے اس کو دوبارہ جنگ احد کے موقع پر قیدی کی حثییت سے بارگاہ رسالت میں پہنچا دیا اس نے اس مرتبہ بھی وہی عہد و پیمان کا حربہ استعمال کیا اور اظہار ندامت و عفو خواہی کے ساتھ امان چاہنے لگا اور آئندہ اپنی ان حرکتوں سے باز رہنے کا عہد و پیمان کیا لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو معاف نہیں کیا اور اس کو جہنم رسید کردینے کا حکم فرمایا۔ چناچہ اس کو قتل کردیا گیا، اس وقت جب بعض لوگوں نے اس کی سفارش کی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ اس کو ایک مرتبہ اور معاف فرما دیا جائے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔
Top