مشکوٰۃ المصابیح - غصہ اور تکبر کا بیان - 4962
' رفق " عنف کی ضد ہے اور اس کے معنی ہیں نرمی و ملائمت اور فروتنی کا رویہ اختیار کرنا اپنے ساتھیوں کے حق میں مہربان نرم خو ہونا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا اور ہر کام اطمینان و خوش اسلوبی سے کرنا۔ " حیاء " سے مراد شرمندہ اور محبوب ہونا اور حیاء دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو کسی انسان پر عیب برائی کے خوف و ندامت کے وقت طاری ہو اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بہترین حیاء وہی ہے جو نفس کو اس چیز میں مبتلا ہونے سے روکے جس کو شریعت نے بری قرار دیا ہے۔ حضرت جنید کا یہ قول کہ حیاء اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ کی نعمتوں کے حاصل ہونے اور ان نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنے کی وجہ سے وحشت کے ساتھ دل میں پائی جائے اور حضرت رقاق کا قول یہ ہے کہ حیاء اس کیفیت کا نام ہے جو آقا کے سامنے درخواست و طلب سے باز رکھتی ہے۔ " حسن خلق " یعنی خوش خلقی یا اچھے اخلاق کا سب سے واضح مطلب یہ ہے کہ اس چیز کی اتباع و پیروی کی جائے جس کو خاتم النبین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی طرف سے دنیا والوں کے سامنے پیش کیا ہے یعنی شریعت، آداب طریقت اور احوال حقیقت و معرفت۔ چناچہ جب حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا گیا کہ اللہ نے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ آیت (وانک لعلی خلق عظیم) ۔ تو آپ کے وہ اخلاق کیا تھے جن کو خلق عظیم کہا گیا ہے حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا کہ آپ کا خلق قرآن کریم ہے یعنی قرآن مجید میں اچھی خصلتیں اور اعلی اوصاف بیان کئے گئے ہیں (خواہ ان کا تعلق اللہ کی نافرمانی سے ہو یا مخلوق اللہ کے ساتھ بدمعالگی سے آپ ان سب سے اجتناب فرماتے تھے رہی اتباع درجات کی بات تو ظاہر ہے کہ اتباع بقدر محبت و توفیق متابعت کے حاصل ہوتی ہے یعنی جو شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت سے جتنا زیادہ سرشار ہوتا ہے اس کو اتباع کرنے کی جس قدر توفیق نصیب ہوتی ہے وہ اتنا ہی زیادہ اور اسی قدر اتباع بھی کرتا ہے اور جس شخص کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کا جتنا کم حصہ ہوتا ہے اور اتباع کرنے کی جس قدر کم توفیق نصیب ہوتی ہے وہ اتباع میں اسی قدر پیچھے رہتا ہے۔
Top