مشکوٰۃ المصابیح - دکھلاوے اور ریاکاری کا بیان - 5174
" استحباب " کے معنی ہیں، اچھا جاننا، پسند کرنا، " مال " کے معنی ہیں خواستہ، یعنی وہ چیز جس کی چاہ و خواہش رکھی جائے، اس کی جمع " اموال " ہے اور " مال " اصل میں " میل " سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں مائل ہونا، راغب ہونا، چناچہ دھن دولت، اسباب و سامان اور جائداد وغیرہ کو " مال " اسی لئے کہا جاتا ہے کہ انسان ان چیزوں کی طرف طبعی طور پر رغبت و میلان رکھتا ہے۔ " عمر " کے معنی ہیں زندگی، زندہ رہنے کی مدت۔ اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طاعت و عبادت کی خاطر، دین کی خدمت کے لئے اور اخروی فلاح و بہبود کے امور انجام دینے کی غرض سے مال و دولت کی خواہش و طلب اور درازی عمر کی آرزو رکھنا جائز ہے۔
Top