Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3326 - 3948)
Select Hadith
3326
3327
3328
3329
3330
3331
3332
3333
3334
3335
3336
3337
3338
3339
3340
3341
3342
3343
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
3426
3428
3429
3430
3431
3432
3433
3435
3436
3437
3438
3439
3440
3441
3442
3443
3444
3445
3446
3447
3448
3449
3450
3452
3453
3455
3456
3457
3458
3459
3460
3461
3462
3463
3464
3465
3466
3467
3468
3469
3470
3471
3472
3473
3474
3475
3476
3477
3478
3479
3480
3481
3482
3483
3484
3485
3486
3487
3488
3489
3490
3491
3492
3493
3495
3497
3498
3499
3500
3501
3502
3504
3505
3506
3507
3508
3509
3510
3511
3512
3513
3514
3515
3516
3517
3518
3519
3520
3521
3522
3523
3524
3525
3527
3528
3529
3531
3532
3533
3534
3535
3536
3537
3538
3539
3540
3541
3542
3543
3544
3545
3546
3547
3548
3549
3550
3551
3552
3553
3554
3555
3556
3557
3558
3559
3560
3561
3562
3563
3564
3565
3566
3567
3569
3570
3571
3572
3573
3574
3575
3576
3577
3578
3579
3580
3581
3582
3583
3584
3585
3586
3587
3589
3590
3591
3592
3593
3594
3595
3596
3597
3598
3599
3600
3601
3603
3604
3605
3606
3607
3608
3609
3610
3611
3612
3613
3614
3615
3616
3617
3618
3619
3620
3622
3623
3625
3627
3628
3629
3630
3631
3632
3633
3634
3635
3636
3637
3638
3639
3640
3641
3642
3644
3645
3646
3647
3648
3649
3650
3651
3652
3653
3654
3655
3656
3657
3658
3659
3660
3661
3662
3663
3664
3665
3666
3667
3669
3670
3671
3672
3673
3674
3675
3676
3677
3678
3679
3680
3681
3682
3683
3684
3685
3686
3687
3688
3689
3690
3691
3692
3693
3694
3695
3696
3697
3698
3699
3700
3701
3702
3703
3704
3705
3706
3707
3708
3709
3710
3711
3713
3714
3715
3717
3718
3719
3720
3721
3722
3724
3725
3726
3727
3728
3729
3730
3731
3732
3734
3735
3737
3738
3740
3742
3743
3744
3745
3746
3747
3748
3749
3750
3751
3752
3753
3754
3755
3756
3757
3758
3759
3761
3762
3763
3764
3765
3766
3767
3768
3769
3770
3771
3772
3773
3774
3775
3776
3777
3778
3779
3780
3781
3782
3783
3784
3785
3786
3787
3788
3789
3790
3791
3792
3793
3794
3795
3796
3797
3798
3799
3800
3801
3802
3803
3804
3805
3806
3807
3808
3809
3810
3811
3812
3813
3814
3815
3816
3817
3818
3819
3820
3821
3822
3823
3824
3826
3827
3829
3830
3831
3832
3833
3834
3835
3836
3837
3838
3839
3841
3842
3843
3844
3845
3846
3848
3849
3850
3851
3852
3853
3854
3855
3856
3857
3858
3859
3860
3861
3862
3863
3864
3865
3866
3867
3868
3869
3870
3871
3872
3873
3874
3875
3876
3877
3878
3879
3880
3881
3882
3883
3884
3885
3886
3887
3888
3889
3890
3891
3892
3893
3894
3895
3896
3897
3898
3899
3900
3901
3902
3903
3904
3905
3907
3908
3909
3910
3911
3912
3913
3914
3915
3916
3917
3918
3919
3921
3922
3923
3924
3925
3926
3927
3928
3929
3930
3931
3932
3933
3934
3935
3936
3937
3938
3939
3941
3942
3943
3944
3945
3946
3947
3948
صحيح البخاری - انبیاء علیہم السلام کا بیان - حدیث نمبر 3326
وعن عمر بن الخطاب أنه خرج يوما إلى مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجد معاذ بن جبل قاعدا عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم يبكي فقال ما يبكيك ؟ قال يبكيني شيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن يسير الرياء شرك ومن عادى لله وليا فقد بارز الله بالمحاربة إن الله يحب الأبرار الأتقياء الأخفياء الذين إذا غابوا لم يتفقدوا وإن حضروا لم يدعوا ولم يقربوا قلوبهم مصابيح الهدى يخرجون من كل غبراء مظلمة . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان .
ریا کاری شرک کے مرادف ہے
امیرالمومنین حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن رسول کریم ﷺ کی مسجد شریف (یعنی مسجد نبوی) میں تشریف لے گئے تو انہوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بیٹھ کر روتا ہوا پایا۔ حضرت عمر ؓ نے ان سے پوچھا کہ کیوں رو رہے ہو؟ (کیا حضور ﷺ کی جدائی رلا رہی ہے یا کسی آفت و مصیبت کے پیش آجانے کی وجہ سے رو رہے ہو اور یا ان کے علاوہ کسی اور سبب نے تمہیں رونے پر مجبور کردیا ہے؟ ) حضرت معاذ ؓ نے جواب دیا۔ مجھے ایک بات کی یاد نے رلا دیا ہے جس کو میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا تھا میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ تھوڑا ریا بھی شرک ہے۔ (نیز آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ) جس شخص نے اللہ کے دوست سے دشمنی اختیار کی (یعنی اولیاء اللہ کو اپنے کسی قول وفعل کے ساتھ ناحق تکلیف پہنچائی یا ان کو غصہ دلایا) تو اس نے گویا اللہ سے مقابلہ کیا اور اس کے ساتھ جنگ کی اور ظاہر ہے کہ جس شخص نے اللہ کے ساتھ مقابلہ آرائی کی اس کی تباہی و بربادی اور ذلت و رسوائی میں کوئی شبہ نہیں یقینا اللہ تعالیٰ نیکوکاروں، پرہیزگاروں اور مخفی حال لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی ظاہری حالت تو اتنی خستہ اور عام نگاہوں میں اس قدر ناقابل توجہ ہوتی ہے کہ جب وہ نظروں سے غائب ہوں تو ان کو پوچھا نہ جائے اور جب موجود ہوں تو انہی کسی دعوت ومجلس میں بلایا نہ جائے۔ اور اگر وہ بلائے بھی جائیں تو پاس نہ بٹھائے جائیں۔ لیکن باطنی و روحانی طور پر ان کا مقام بہت بلند ہوتا ہے چناچہ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں جن کے نور سے راہ راست پائی جاتی ہے اور یہ لوگ ہر تاریک زمین سے نکل کر آتے ہیں (اس روایت کو ابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے نقل کیا ہے۔
تشریح
تھوڑا ریا بھی شرک ہے کا مطلب یہ ہے کہ ریاء کاری اگر معمولی درجہ کی بھی ہو تو وہ بھی ایک بڑا شرک ہے۔ یا یہ کہ تھوڑا ریا شرک کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ اور یہ چیز انسانی جبلت میں اس طرح پوشیدہ طور پر گھر کئے ہوئے کہ اچھے اچھے لوگ اور مضبوط و پختہ ایمان والے بھی اپنے اعمال میں اس کی دخل اندازی کو پہچان نہیں پاتے اور کم ہی لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں، لہٰذا حضرت معاذ ؓ نے اپنے رونے کا ایک سبب تو اسی چیز کو بتایا کہ مجھ پر یہ خوف طاری ہے کہ کہیں غیر معلوم طور سے میرے اعمال پر بھی اس برائی کا سایہ نہ ہو، دوسرا سبب انہوں نے اولیاء اللہ کی ایذاء رسانی بتایا، یعنی انہوں نے گویا یہ بیان کیا کہ اکثر اولیاء اللہ اپنی اصل حیثییت اور حقیقت کے اعتبار سے عام نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہیں اور اپنی ظاہری حالت میں وہ ایک بہت معمولی درجہ کے مسلمان نظر آتے ہیں، ان کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کس بلند مقام پر فائز ہیں اور اللہ کی نظر میں ان کی کتنی بڑی حیثیت ہے، جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اولیائی تحت قبائی لایعرفہم غیرہم اور ظاہر ہے کہ کوئی انسان اس بات سے خالی نہیں کہ وہ کسی مسلمان بھائی کے ساتھ کبھی بھی کوئی ایسی بد زبانی نہ کرے جو گناہ کا باعث ہوتی ہے، لہٰذا حضرت معاذ ؓ نے بتایا کہ میں اس خوف سے رو رہا ہوں کہ مبادہ میں نے کسی مسلمان بھائی کے ساتھ قولا یا فعلا کوئی ایسا رویہ اختیار کیا ہو جو اس کے لئے اذیت کا باعث بن گیا ہو اور اس کی وجہ سے میں نے اللہ کی ناراضگی مول لے لی ہو، گویا یہاں ومن عادی اللہ ولیا کے یہی معنی مراد لئے گئے ہیں۔ نیکو کاروں سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی کرتے ہیں اور نیکی کا مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور اس کی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک اور احسان کرنا۔ چناچہ اسی لئے بعض عارفین نے یہ کہا ہے کہ دین کا مدار احکام الٰہی کو اعتقاد اور عملا سب سے اہم اور قابل احترام جاننے اور مخلوق الٰہی کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آنے پر ہے۔ پرہیز گاروں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہر طرح کے شرک سے بچتے ہیں خواہ وہ شرک جلی ہو یا خفی شرک ہو اور ہر اس چیز سے اجتناب و پرہیز کرتے ہیں جس کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ممنوع و حرام قرار دیا ہے، یا جو شریعت کی نظر میں نہایت ناپسندیدہ اور نہایت نامناسب ہے۔ مخفی لوگوں سے اللہ کے وہ پاک نفس بندے مراد ہیں جو ظاہری وجہ، وضع قطع اور رہن سہن کے اعتبار سے نہایت خستہ حالت میں رہتے ہیں اور معاشرہ کے لوگ دنیا دار ان کو بہت کمزور و حقیر جانتے ہیں مگر اپنے کردار و اخلاق باطنی احوال اور روحانی عظمت کے اعتبار سے نہایت بلند وبالا درجہ پر فائز ہوتے ہیں یا وہ اہل اللہ مراد ہیں جو دنیاداروں کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں اور ان کے درمیان رہن سہن نہیں رکھتے۔ ان اللہ الخ سے یہ جملہ استیناف ہے اور اس کے ذریعہ گویا ولی کی حقیقت بیان کرنا مقصود ہے چناچہ پہلے تو نیکی، پرہیزگاری اور اخفائے حال کی صفات کے ذریعہ اولیاء اللہ کی حقیقت بیان کی گئی اور پھر دنیا والوں کے تعلق سے ان اولیاء اللہ کے تین احوال بیان کئے گئے کہ جب وہ کہیں باہر چلے جاتے ہیں اور سفر میں ہوتے ہیں تو کسی تقریب و مجلس آرائی کے وقت ان کی تلاش و جستجو نہیں ہوتی اور ان کا کوئی انتظار نہیں کیا جاتا، جب وہ موجود ہوتے ہیں تو ان کو اس مجلس وتقریب میں بلایا نہیں جاتا اور اگر وہ اس تقریب ومجلس میں جاتے ہیں تو ان کو اہل مجلس نہ صرف یہ کہ کوئی اہمیت و وقعت نہیں دیتے بلکہ اپنے قریب بیٹھنے بھی نہیں دیتے اور انہیں پیچھے کہیں دور بٹھلا دیتے ہیں۔ یہ گویا اس روایت کی تفصیل ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ رب اشعث اغبر لایعبا بہ لواقسم علی اللہ لابرہ۔ یعنی بعض ایسے لوگ بھی ہیں بظاہر پراگندہ بال و غبار آلودہ خستہ حال ہوتے ہیں اور ان کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی لیکن اللہ کے نزدیک وہ اتنا بلند مرتبہ رکھتے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کر کے قسم کھا لیں تو یقینا اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو سچا اور پورا کرے۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں یعنی وہ پاک نفس لوگ راہ ہدایت کے مشعل بردار ہیں کہ وہ رہبری و پیشوائی کی اہلیت رکھتے ہیں اور ان کی اتباع کرنا راہ ہدایت پانے کی ضمانت ہے، پس وہ اس بات کے پوری طرح مستحق ہیں کہ ان کا لحاظ رکھا جائے اور وہ اس لائق ہیں کہ ان سے راہ ہدایت وراستی کی روشنی حاصل کی جائے۔ ہر تاریک زمین سے نکل کر آتے ہیں کے ذریعہ ان لوگوں کی مفلسانہ طرز زندگی، ان کے مکانات کی تیرگی وتاری کی اور خراب حالت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یعنی وہ لوگ اتنے مفلس وتہی دست ہوتے ہیں کہ اپنے گھر میں چراغ جلانے اور اپنے مکانات کو معمولی درجہ کا بھی قابل آسائش بنانے کے لئے اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے۔ اس حدیث میں یہ تنبیہ پوشیدہ ہے کہ اگر کسی عالم و صالح اور متقی شخص کی ظاہری حالت خراب وخستہ ہو تو ان کی ظاہری خستہ حالی اور ان کے لباس وغیرہ کی کہنگی وبوسیدگی سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے اور ان کی تعظیم و توقیر اور ان کے ادب و احترام کو ترک کردینے کی غلطی نہ کرنی چاہئے کیونکہ کسی کے ظاہر کو دیکھ کر کوئی کیا اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کا باطن درست ہے یا نہیں خاکسار ان جہاں رابحقارت منگر توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد نیز یہ حدیث بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ محض فقر و افلاس اور دنیاوی بےحیثیتی، کوئی فضیلت نہیں ہے جب تک کہ تقویٰ و پرہیز گاری اور باطن کی نورانیت حاصل نہ ہو۔ آخر میں ایک بات یہ بھی بتا دینی ضروری ہے کہ ولی اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو متقی و پرہیز گار ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ان اولیاہ الا المتقون) (یعنی اللہ تعالیٰ کے ولی وہی لوگ ہیں جو متقی و پرہیز گار ہوں) نیز شرع عقائد نسفی میں لکھا ہے کہ ولی وہ شخص ہے جو اپنی بساط بھر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا عرفان رکھتا ہو، طاعات و عبادات کا پابند ہو، گناہوں سے اجتناب کرتا ہو اور نفسانی لذات و خواہشات میں منہمک رہنے سے اعراض کرتا ہو۔
Top