سنن النسائی - شکار اور ذبیحوں سے متعلق - حدیث نمبر 4346
وعن معاذ بن جبل أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يكون في آخر الزمان أقوام إخوان العلانية أعداء السريرة . فقيل يا رسول الله وكيف يكون ذلك . قال ذلك برغبة بعضهم إلى بعض ورهبة بعضهم من بعض .
ریا کار لوگوں کے بارے میں پیشگوئی
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ آخر زمانہ میں ایسی قومیں اور جماعتیں بھی پیدا ہوں گی جو ظاہر میں تو درست ثابت ہوں گی مگر باطن میں دشمنی کریں گے۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! ایسا کیونکر اور کس سبب سے ہوگا؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ایسا اس وجہ سے ہوگا کہ ان میں سے بعض بعض سے غرض و لالچ رکھیں گے اور بعض بعض سے خوف زدہ ہوں گے۔

تشریح
مطلب یہ ہے کہ آخر زمانہ میں مسلمانوں میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہوگی جو اپنی دنیاوی اغراض اور ذاتی مفاد کی تکمیل کے لئے منافقت اور ریاء کاری اختیار کریں گے اور صدق و اخلاص سے محروم رہیں گے نہ ان کی دوستی کا بھروسہ ہوگا اور نہ ان کی دشمنی کا جس شخص و طبقہ سے ان کی کوئی غرض وابستہ ہوگی اس کی طرف رغبت و التفات رکھیں گے اور اس کے حق میں دوستی کا اظہار کریں گے۔ اگر کسی غرض ومفاد کا واسطہ درمیان میں نہیں ہوگا تو بیگانہ بن جائیں، بلکہ غرض ومفاد حاصل نہ ہونے کی صورت میں دشمنی وعدات پر کمر بستہ ہوجائیں گے۔ اس سے واضح ہوا کہ شریعت کا جو یہ حکم ہے کہ مسلمان کی دوستی و دشمنی صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ہونی چاہئے تو مذکورہ لوگ اس مرتبہ سے گزرے ہوئے ہوں گے، کیونکہ ان کی دوستی و دشمنی کا تعلق اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے بجائے ذاتی اغراض فاسدہ اور مذموم مقاصد سے ہوگا چناچہ جب وہ اپنے اغراض اور اپنے مفاد کے تحت کسی فرد یا جامعت کی طرف رغبت والتفات رکھیں گے تو اس کے تئیں دوستی والفت ظاہر کریں گے اور جب کسی وجہ سے کسی فرد یا جماعت کو ناپسند کریں گے تو ان کے خلاف بغض و عداوت ظاہر کریں گے۔ پس نہ تو لوگوں کے تئیں ان کی دوستی کا اعتبار ہوگا اور نہ ان کی عداوت کا، کیونکہ ان کی دوستی اور عداوت دونوں کی بنیاد، صدق و اخلاص اور پاکیز اغراض و مقاصد کے بجائے، ذاتی اغراض و خواہشات اور نفع نقصان پر ہوگی۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ reached Khaibar in the morning, and they came out to us carrying their shovels. When they saw us they said: Muhammad and the army! And they rushed back inot the fortress. The Messenger of Allah ﷺ raised his hands, then he said: Allahu Akbar, Allahu Akbar, Khaibar is destroyed. Verily, when we descend in field of a people (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned! Acquired some donkeys there and we cooked the., Then the caller of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) called out: Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of donkeys, for it is an abomination.
Top