Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1599 - 1818)
Select Hadith
1599
1600
1601
1602
1603
1604
1605
1606
1607
1608
1609
1610
1611
1612
1613
1614
1615
1616
1617
1618
1619
1620
1621
1622
1623
1624
1625
1626
1627
1628
1629
1630
1631
1632
1633
1634
1635
1636
1637
1638
1639
1640
1641
1642
1643
1644
1645
1646
1647
1648
1649
1650
1651
1652
1653
1654
1655
1656
1657
1658
1659
1660
1661
1662
1663
1664
1665
1666
1667
1668
1669
1670
1671
1672
1673
1674
1675
1676
1677
1678
1679
1680
1681
1682
1683
1684
1685
1686
1687
1688
1689
1690
1691
1692
1693
1694
1695
1696
1697
1698
1699
1700
1701
1702
1703
1704
1705
1706
1707
1708
1709
1710
1711
1712
1713
1714
1715
1716
1717
1718
1719
1720
1721
1722
1723
1724
1725
1726
1727
1728
1729
1730
1731
1732
1733
1734
1735
1736
1737
1738
1739
1740
1741
1742
1743
1744
1745
1746
1747
1748
1749
1750
1751
1752
1753
1754
1755
1756
1757
1758
1759
1760
1761
1762
1763
1764
1765
1766
1767
1768
1769
1770
1771
1772
1773
1774
1775
1776
1777
1778
1779
1780
1781
1782
1783
1784
1785
1786
1787
1788
1789
1790
1791
1792
1793
1794
1795
1796
1797
1798
1799
1800
1801
1802
1803
1804
1805
1806
1807
1808
1809
1810
1811
1812
1813
1814
1815
1816
1817
1818
مشکوٰۃ المصابیح - لوگوں میں تغیر وتبدل کا بیان - حدیث نمبر 3033
عطایا کا بیان
عطایا لفظ عطیہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بخشش یعنی اپنی کسی چیز کی ملکیت اور اس کے حق تصرف کو کسی دوسرے کی طرف منتقل کردینا یا کسی کو اپنی کوئی چیز بلا کسی عوض دے دینا چناچہ اس باب میں عطاء و بخشش کی تمام قسموں مثلًا وقف ہبہ عمری اور رقبی کا ذکر کیا جائے گا۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ عطایا سے مراد امراء و سلاطین اور سربراہان مملکت کی بخششیں اور ان کے انعام ہیں۔ امام غزالی نے منہاج العابدین میں لکھا ہے کہ امراء و سلاطین کی بخششوں اور سرکاری انعامات کو قبول کرنے کے سلسلے میں میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں چناچہ بعض علاء تو یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ بخشش انعام کسی ایسے مال کی صورت میں ہو جس کے حرام ہونے کا یقین نہ ہو تو اسے قبول کرلینا درست ہے لیکن بعض حضرات کا یہ قول ہے کہ جب تک اس مال کے حلال ہوجانے کا یقین نہ ہو تو اسے قبول نہ کرنا ہی اولی ہے اور زیادہ بہتر ہے کیونکہ موجودہ زمانے میں سلاطین کے پاس اور سرکاری خزانوں میں اکثر وبیشتر غیرشرعی ذرائع سے حاصل ہونیوالا مال وزر ہوتا ہے۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ غنی اور فقیر (یعنی مستطیع ومفلس) دونوں کے لئے امراء و سلاطین کے صلے (تحفے وہدایا) حلال ہیں جب کہ ان کا مال حرام ہونا تحقیقی طور پر ثابت نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس کا تحفہ قبول فرمایا تھا اور ایک یہودی سے قرض لیا تھا باوجود یہ کہ یہودیوں کے بارے میں قرآن کریم نے آیت (اکالون للسحت) ( حرام مال کھانیوالے) فرمایا ہے۔ اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ جس مال کے حرام ہونے کا یقین نہ ہو وہ فقیر (مفلس) کے لئے تو حلال ہے لیکن غنی مستطیع کے لئے حلال نہیں ہے۔ آخر میں خلاصہ طے طور پر یہ مسئلہ جان لیجئے کہ جو شخص مفلس ونادار ہو اس کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ سلاطین کا مال قبول کرے کیونکہ اگر وہ مال سلطان کی ذاتی ملکیت میں سے ہے تو اس کو لے لینا بلاشبہ درست ہے اور اگر وہ مال فئی مال غنیمت خراج یا عشر میں سے ہے تو پھر مفلس اس کا حقدار ہی ہے اسی طرح ایسے مال میں جو فئی اور خراج عشر میں حاصل ہوا ہو اہل علم کا بھی حق ہے کہ اسے وہ مال لے لینا چاہئے چناچہ منقول ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ جو شخص برضا ورغبت اسلام میں داخل ہوا اور اس نے قرآن یاد کیا تو وہ بیت المال سے ہر سال دو سو درہم لینے کا حق دار ہے اگر وہ اپنے اس حق کو دنیا میں نہیں لے گا تو وہ یعنی اس کا اجر اسے عقبی میں مل جائے گا۔ لہذا ثابت ہوا کہ مفلس اور عالم دین کو بیت المال سے اپنا حق لے لینا چاہئے۔
Top