مشکوٰۃ المصابیح - لوگوں میں تغیر وتبدل کا بیان - 5233
" بکاء " کے معنی ہیں رونا اور آنسو بہانا۔ اگر یہ لفظ مد کے بغیر یعنی " بکا " ہو تو اس کا اطلاق کسی غم وحزن کی وجہ سے صرف آنسو بہنے پر ہوتا ہے اور اگر یہ لفظ مد کے ساتھ، یعنی بکاء ہو تو اس کا اطلاق آواز کے ساتھ رونے اور آنسو بہانے پر ہوتا ہے اور زیادہ مشہور مد کے ساتھ ہی ہے نیز ظاہر یہ ہے کہ عنوان بالا میں اس لفظ کا عام مفہوم مراد ہے یعنی رونا، خواہ خاموش آنسو بہانے کی صورت میں ہو یا بلند آواز کے ساتھ رونے کی صورت میں۔ اس سے تبا کی کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی ہیں رونے کی صورت بنانا، بہ تکلف رونا اور ان چیزوں کو کہ جن سے رونا آئے۔ مبادا اور بیان کر کے زبردستی رونا، ابکاء بھی اسی لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی کو رلانا۔ " خوف " کے معنی ہیں ڈرنا، دہشت کھانا اسی لفظ سے اخافت اور تخویف ہے، جس کے معنی ہیں ڈرانا، واضح رہے کہ " خوف " ایک خاص کیفیت وحالت کا نام ہے جو پیش آتی ہے۔ حاصل یہ کہ رونے اور ڈرنے سے مراد آخرت کے عذاب اور اللہ تعالیٰ کے عقاب و عتاب سے ڈرنا اور ان چیزوں کے خوف سے رونا گڑ گڑانا ہے۔
Top