مشکوٰۃ المصابیح - امر بالمعروف کا بیان - 5011
" ظلم " کے لغوی معنی ہیں " کسی چیر کو بےموقع اور بےمحل رکھنا " یعنی جس چیر کی جو جگہ اور جو محل ہو اس کو وہاں کی بجائے دوسری جگہ اور دوسرے محل میں رکھنا ! اور یہ مفہوم ہر اس چیز کو شامل ہے جو اپنی حد سے تجاوز کر جائے اور اس کو جس طرح واقع ہونا چاہئے اس کے بجائے زیادتی یا نقصان کے ساتھ بےجا اور بےوقت واقع ہو چناچہ جس چیر کو عام اصطلاح میں جور وتعدی یا زور، زبردستی اور ستم کرنا کہتے ہیں اس کے بھی یہ معنی ہیں اور شریعت میں بھی ظلم وغیرہ کے یہ معنی مراد لئے جاتے ہیں، البتہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ موقعہ محل سے شرعی موقع و محل مراد لیا جائے یعنی شرعی طور پر ظلم وغیرہ کے یہ معنی مراد لئے جاتے ہیں، البتہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ موقع و محل سے شرعی موقع و محل مراد لیا جائے یعنی شرعی طور پر ظلم وغیرہ کا اطلاق اس چیز پر ہوگا جو شرعی محل سے بلاوجہ شرعی تجاوز کر جائے۔
Top