مشکوٰۃ المصابیح - توکل اور صبر کا بیان - حدیث نمبر 5038
وعن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما وقعت بنو إسرائيل في المعاصي نهتهم علماؤهم فلم ينتهوا فجالسوهم في مجالسهم وآكلوهم وشاربوهم فضرب الله قلوب بعضهم ببعض فلعنهم على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون . قال فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان متكئا فقال لا والذي نفسي بيده حتى تأطروهم أطرا . رواه الترمذي وأبو داود وفي روايته قال كلا والله لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتأخذن على يدي الظالم ولنأطرنه على الحق أطرا ولنقصرنه على الحق قصرا أو ليضربن الله بقلوب بعضكم على بعض ثم ليلعننكم كما لعنهم
برائیوں کے مٹانے کی پوری جدوجہد کرو
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل جب (زنا، ہفتہ کے دن شکار کرنے اور ان کے علاوہ دوسرے) گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ان کو روکا اور جب وہ باز نہ آئے (یعنی انہوں نے اپنے علماء کی بات نہیں مانی اور ممنوع چیزوں کو ترک نہیں کیا) تو ان کے وہ علماء بھی ان کی مجلسوں کے ہم نشین بن گئے اور ان کے ہم نوالہ وہم پیالہ ہوگئے (یعنی ان کے علماء نے پہلے تو ان بدعملی اور گناہ گار لوگوں کو بدعملی اور گناہ کی راہ اختیار کرنے سے منع کیا لیکن جب وہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے اور برائی کی راہ پر جمے رہے تو پھر وہ علماء بھی ان بدعمل اور گناہگار لوگوں کے ساتھ خلط ملط ہوگئے اور سکوت ومداہنت کی راہ پر لگ گئے) اللہ تعالیٰ نے ان سب کو خلط ملط کردیا اور ان کے دلوں کو آپس میں ایک دوسرے کے دل کے ساتھ ملادیا، پھر اللہ تعالیٰ ان (بنی اسرائیل کے گناہ گار لوگوں کے ساتھ مصاحبت ومجالست رکھنے والوں اور ان کے تئیں مداہنت اختیار کرنے والوں) پر حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبان کے ذریعہ لعنت فرمائی اور یہ لعنت اس لئے کی گئی تھی کہ ان لوگوں نے گناہ کئے اور حد سے تجاوز کیا تھا (یعنی انہوں نے محض گناہ کرنے اور مداہنت اختیار کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ حد سے تجاوز کر کے کفر تک پہنچ گئے تھے بایں طور کہ خلاف شرع امور کو حلال و جائز جاننے لگے، گناہوں سے رضامندی ظاہر کرنے لگے اور گناہ گاروں کو اچھا سمجھنے لگے تھے) حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ جو اس وقت (اپنے پہلو یا پشت سے) تکیہ لگائے بیٹھے تھے مزکورہ بالا باتیں ارشاد فرمانے کے بعد) سیدھے بیٹھ گئے (یعنی آپ ﷺ نے تکیہ چھوڑ دیا اور اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی اہم بات فرمانے کا ارادہ ہو) چناچہ فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اس وقت تک عذاب الٰہی سے نجات نہیں پاسکو گے جب تک کہ ظالموں کو ان کے ظلم سے اور فاسقوں کو ان کے گناہوں سے نہیں روکو گے (ترمذی، ابوداؤد) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا یہ گمان ہے کہ سکوت ومداہنت کے باوجود تمہیں عذاب الٰہی سے نجات مل جائے گی تو) ایسا ہرگز نہیں ہے، بلکہ اللہ کی قسم، تمہارے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو نیکی کی راہ اختیار کرنے کا حکم دو اور ان کو برائی کی راہ سے روکو، ظالم کا ہاتھ پکڑو، اس کو حق کی طرف مائل کرو اور اس کو حق و انصاف کی راہ پر قائم کرو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو پھر جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہگاروں اور ان سے سکوت ومداہنت کرنے والوں کے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے دل کے ساتھ خلط ملط کردے گا اور پھر تم پر لعنت فرمائے گا جیسا کہ بنی اسرائیل پر (ان کے گناہوں کی وجہ سے) لعنت فرمائی تھی۔
Top