Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 136
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ الْمَیِّتَ یَصِیْرُ اِلَی الْقَبْرِ فَیُجْلَسُ الرَّجُلُ فِیْ قَبْرِہٖ مِنْ غَیْر فَزَعِ وَلَا مَشْغُوْبِ ثُمَّ یُقَالُ لَہ، فِیْمَ کُنْتَ فَیَقُوْلُ کُنْتُ فِی الْاِسْلَامِ فَیَقُاْلُ مَا ھٰذَا الرَّجُلُ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اﷲِ جَآءَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ فَصَدَقْنَاہُ فَیُقَالُ لَہ، ھَلْ رَاَیْتَ اﷲَ فَیَقُوْلُ مَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدِاَنْ یَّرَی اﷲَ فَیُفَرَّجُ لَہ، فُرْجَۃٌ قِبَلَ النَّارِ فَیَنْظُرُ اِلَیْھَا یَحْطِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا فَیُقَالُ لَہ، اُنْظُرْ اِلٰی مَاوَقٰکَ اﷲُ ثُمَّ یُفَرَّجُ لَہ، فُرْجَۃٌ قِبَلَ الْجَنَّۃِ فَیَنْظُرُ اِلٰی زَھْرَتِھَا وَمَا فِیْھَا فَیُقَالُ لَہ، ھٰذَا مَقْعدُکَ عَلَی الْیَقِیْنِ کُنْتَ وَ عَلَیْہِ مُتَّ وَعَلَیْہِ تُبْعَثُ اِنْ شَآءَ اﷲُ تَعَالٰی وَ یَجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوْۤءُ فِیْ قَبْرِہٖ فَزِعًا مَشْغُوْبًا فَیُقَالُ لَہ، فِیْمَ کُنْتَ فَیَقُوْلُ لَآ اَدْرِیْ فَیُقَالُ لَہ، مَاھٰذَا الرَّجُلُ فَیَقُوْلُ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ قَوْلًا فَقُلْتُہ، فَیُفَرَّجُ لَہ، فُرْجَۃٌ قِبَلَ الْجَنَّۃِ فَیَنْظُرُ اِلٰی زَھْرَ ِتَھا وَ مَا فِیْھَا فَیُقَالُ لَہ، اُنْظُرْ اِلٰی مَاصَرَفَ اﷲُ عِنْکَ ثُمَّ یُفَرَّجُ لَہ، فُرْجَۃٌ اِلَی النَّارِ فَیَنْظُرُ اِلَیْھَا یَحْطِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا فَیُقَالُ ھٰذَا مَقْعَدُکَ عَلَی الشَّکِّ کُنْتَ وَعَلَیْہِ مُتَّ وَ عَلَیْہِ تُبْعَثُ اَنْ شَآءَ اﷲُ تَعَالٰی۔ (رواہ ماجہ)
عذاب قبر کے ثبوت کا بیان
حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب مردہ قبر کے اندر پہنچتا ہے (یعنی اسے دفن کردیا جاتا ہے) تو (نیک) بندہ قبر کے اندر اس طرح اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے کہ نہ تو وہ لمحہ بھر خوفزدہ ہوتا اور نہ گھبرایا ہوا، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کس دین میں تھے؟ وہ کہتا ہے میں دین اسلام میں تھا! پھر اس سے پوچھا جاتا ہے یہ آدمی محمد ﷺ کون ہیں؟ وہ کہتا ہے محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں جو اللہ کے پاس سے ہمارے لئے کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے اور ہم نے ان کی تصدیق کی۔ پھر اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم نے اللہ کو دیکھا ہے؟ وہ جواب میں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو کوئی نہیں دیکھ سکتا! اس کے بعد اس کے لئے ایک روشن دان دوزخ کی طرف کھولا جاتا ہے اور وہ ادھر دیکھتا ہے اور آگ کے شعلوں کو اس طرح بھڑکتا ہوا پاتا ہے گویا اس کی لپیٹیں ایک دوسرے کو کھا رہی ہیں اور اس سے کہا جاتا ہے، اس چیز کو دیکھو جس سے اللہ نے تجھے بچایا ہے، پھر اس کے لئے ایک کھڑکی جنت کی طرف کھول دی جاتی ہے، وہ جنت کی تروتازگی اور اس کی چیزوں کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے، یہ تمہارا ٹھکانہ ہے کیونکہ ( تمہارا اعتقاد مضبوط اور اس پر) تمہیں کامل یقین تھا اور اسی (یقین وا عتماد) کی حالت میں تمہاری وفات ہوئی اور اسی حالت میں تمہیں (قیامت کے دن) اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اور بدکار بندہ اپنی قبر میں خوف زدہ اور گھبرایا ہوا اٹھ کر بیٹھتا ہے پس اس سے پوچھا جاتا ہے تو کس دین میں تھا؟ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے یہ آدمی محمد ﷺ کون تھے وہ کہتا ہے میں لوگوں کو جو کچھ کہتے سنتا تھا وہی میں کہتا تھا، اس کے بعد اس کے لئے بہشت کی طرف ایک روشن دان کھولا جاتا ہے جس سے وہ بہشت کی تروتازگی اور اس کی چیزوں کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے، اس چیز کی طرف دیکھ جسے اللہ نے تجھ سے پھر لیا ہے پھر اس کے لئے دوزخ کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ آگ کے تیز شعلے ایک دوسرے کو کھا رہے ہیں۔ اور اس سے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے اس شک کے سبب جس میں تو مبتلا تھا اور جس پر تو مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ (سنن ابن ماجہ)
Top