Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 2043
عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من مات وعليه صيام شهر رمضان فليطعم عنه مكان كل يوم مسكين . رواه الترمذي وقال : والصحيح أنه موقوف على ابن عمر
میت کے ذمہ روزوں کا فدیہ
حضرت نافع (تابعی) حضرت ابن عمر ؓ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا چاہئے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت ابن عمر ؓ پر موقوف ہے یعنی یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی نہیں ہے بلکہ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے۔
تشریح
ہر روزہ کے بدلہ مسکین کو کھلانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر روزہ کے بدلہ میں پونے دو سیر گیہوں یا ساڑھے تین سیر جو۔ یا اتنی ہی مقدار کی قیمت ادا کی جائے اور یہی مقدار نماز کے فدیہ کی بھی ہے کہ ہر نماز کے بدلہ اسی قدر فدیہ ادا کیا جائے۔ یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے جن کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی مرنے والے کے ذمہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص روزہ نہ رکھے بلکہ ورثاء اس کے بدلہ فدیہ ادا کریں اس سے پہلے جو حدیث گزری ہے غالب امکان ہے کہ وہ منسوخ ہو اور یہ حدیث ناسخ ہو، لیکن جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اس حدیث کو منسوخ نہ قرار دے کر اس کی جو تاویل کی جاتی ہے اس کی بنیاد یہی حدیث ہے۔ یہ روایت اگرچہ موقوف ہے جیسا کہ امام ترمذی نے فرمایا لیکن حکم میں مرفوع (ارشاد رسول) ہی کے ہے کیونکہ اس قسم کے تشریعی امور کوئی بھی صحابی اپنی عقل سے بیان نہیں کرسکتا لہٰذا حضرت ابن عمر ؓ نے یہ مضمون آنحضرت ﷺ سے ضرور سنا ہوگا جب ہی انہوں نے اسے نقل کیا۔
Top