Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 3695
وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما أنا بشر وإنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو ما أسمع منه فمن قضيت له بشيء من حق أخيه فلا يأخذنه فإنما أقطع له قطعة من النار
مدعی کو ایک ہدایت
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے قضیے (جھگڑے) لے کر میرے پاس آتے ہو، ممکن ہے تم میں سے کوئی شخص اپنے دلائل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح وبلیغ بیان کا حامل ہو اور میں اس کا (مدلل) بیان سن کر اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں لہٰذا وہ شخص کہ میں جس کے حق میں کسی ایسی چیز کا فیصلہ کروں جو حقیقت میں اس کے بھائی مسلمان کی ہو، اس چیز کو نہ لے کیونکہ (ایسی صورت میں گویا) میں اس کے حق میں آگ کے ایک ٹکڑے کا فیصلہ کروں گا۔ (بخاری، ومسلم)
تشریح
میں ایک انسان ہوں کے ذریعہ اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ سہو اور نسیان کسی انسان سے بعید نہیں ہے اور انسان کی فطرت اور وضع بشری کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی معاملہ کے صرف اسی پہلو کو دیکھے جو ظاہری طور پر عیاں ہو اور اس کے متعلق اسی بات کو قبول کرے جو ایک کھلی ہوئی دلیل کی صورت میں اس کے سامنے آئے اور چونکہ میں بھی ایک انسان اور اس حیثیت سے وہ تمام احکام و عوارض مجھ پر بھی پیش آتے ہیں جو بشریت کا خاصہ ہیں اور جن کا تعلق انسانی جبلت سے ہے، لہٰذا جن معاملات میں مجھے وحی کے ذریعہ براہ راست بار گاہ الوہیت سے حقیت رسی کی قوت عطا کی جاتی ہے اور حق سبحانہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے تعلیم و ہدایت دی جاتی ہے ان کے علاوہ دوسرے امور میں مجھے انہی ضابطوں اور قاعدوں کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے جن کی بنیاد انسانی عقل اور بشری تقاضوں پر ہے۔ چناچہ جب میرے سامنے کوئی قضیہ آتا ہے تو میں اس کے ظاہری پہلوؤں کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہوں۔ اگر مدعی اپنے دلائل اپنے گواہ اور اپنے زور بیان سے میرے سامنے یہ ثابت کردیتا ہے کہ اس کا دعوی صحیح ہے اور اس نے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو میں اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہوں کہ ظاہری حکم کا تقاضہ یہی ہے اب اس کے بعد مدعی جانے کہ اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح ہے اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو وہ اپنی مراد پالے۔ لیکن اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح نہ تھا اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا تھا وہ اس کا حق نہیں تھا بلکہ کسی دوسرے کا حق تھا اور میں نے اس کے ظاہری دلائل و ثبوت اور اس کی چرب زبانی اور قوت لسانی سے یہ سمجھا کہ اس کا دعوی صحیح ہے۔ اور اس کا مدعا اس کو دلوا دیا تو اس کو چاہئے کہ وہ اس چیز کو اپنے حق میں حلال نہ جانے بلکہ یہ سمجھ کر کہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو ملا ہے۔ اس سے اجتناب کرے۔
Top