Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 5206
ریاء کی تعریف
ریاء رویت سے مشتق ہے اور صراح میں لکھا ہے کہ ریاء کے معنی ہیں اپنے آپ کو لوگوں کی نظر میں اچھا بنا کر پیش کرنا۔ اور عین العلم میں لکھا ہے کہ ریاء کا مطلب یہ ہے اپنی عبادت ونی کی کا سکہ جمانا اور اس کے ذریعہ لوگوں کی نظر میں اپنی قدر و منزلت چاہنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ریاء کا تعلق خاص طور پر ان چیزوں کے ساتھ ہوتا ہے جو عبادت ونی کی کے ظاہری عمل کہلاتے ہیں اور جو چیزیں کہ از قسم عبادت نہ ہوں جیسے کثرت مال ومتاع، علم و ذہانت کی فراوانی، اشعار وغیرہ کا یاد رکھنا اور نشانہ بازی کی مہارت وغیرہ تو ان میں دکھاوے کے لئے کئے جانے والے کام کو ریاء نہیں کہا جاتا بلکہ وہ افتخار وتکبر (ناز و گھمنڈ) کی ایک قسم کہلاتا ہے اسی طرح نیکی و عبادت کے ظاہری اعمال میں بھی اگر کوئی کام اس صورت میں لوگوں کو دکھانے کے لئے کیا جائے جب کہ اس کا مقصد عزت وجاہ کی طلب نہ ہو، جیسا کہ بعض مشائخ اپنے مریدوں کو تلقین وتعلیم، لوگوں کے دلوں کو نیک اعمال کی طرف مائل کرنے اور ان کو اتباع و پیروی کی طرف راغب کرنے کے لئے بعض اعمال اس طرح کرتے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھیں تو یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ریا نہیں کہلائے گا اگرچہ ظاہر میں ان کا وہ عمل ریاء کاری معلوم ہو اسی وجہ سے یہ کہا گیا ہے کہ ریاء الصدیقین خیر من اخلاص المریدین یعنی اونچے درجہ کے مشائخ اور بزرگوں کا ریاء مریدین کے اخلاص یعنی عدم ریاء کاری سے بہتر ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ریاء اصل میں اس چیز کا نام ہے کہ کسی شخص کی ذات میں واقعۃً کوئی صفت و کمال ہو اور وہ اپنے اس واقعی وصف و کمال پر لوگوں کے سامنے نمایاں کرے اور یہ خواہش رکھے کہ لوگ اس کے اس وصف و کمال کو جانیں تاکہ ان کی نظر میں قدر و منزلت اور عزت و وقعت حاصل ہو۔ پس جو شخص کسی ایسے وصف و کمال کو اپنی طرف منسوب کر کے لوگوں پر ظاہر کرے کہ جو واقعۃ اس کی ذات میں نہیں ہے تو اس کو ریاء نہیں بلکہ خالص کذب اور منافقت کہا جائے گا اسی پر قیاس کر کے یہ کہا گیا ہے کہ غیب اس چیز کا نام ہے کہ کسی شخص کی پیٹھ پیچھے اس کا وہ عیب بیان کیا جائے تو واقعتا اس کی ذات میں موجود ہو اور اگر اس کی طرف منسوب کر کے کوئی ایسا عیب بیان کیا جائے جو حقیقت کے اعتبار سے اس کی ذات میں نہیں ہے تو اس کو افتراء اور بہتان کہیں گے۔
Top