Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 544
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہُ ذَکَرَ الصَّلَاۃَ یَوْمًا فَقَالَ مَنْ حَافَظَ عَلَیْھَا کَانَتْ لَہ، نُوْرًا وَبُرْھَانًا وَ نَجَاۃَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ لَّمْ یُحَافِظْ عَلَیْھَا لَمْ تَکُنْ لَہ، نُوْرًا وَلَا بُرْھَانَا وَلَا نَجَاۃً وَکَانَ یَوْمَ القِیَامَۃِ مَعَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ اُبَیِّ بْنِ خَلَفٍ۔ (رواہ احمد بن حنبل و الدارمی والبیھقی فی شعب الایمان)
نماز کا بیان
اور حضرت عبداللہ ابن عمر و ابن عاص ؓ راوی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز کا ذکر کیا ( یعنی نماز کی فضیلت و اہمیت کو بیان کرنے کا ارادہ فرمایا) چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی نماز پر محافظت کرتا ہے (یعنی ہمیشہ پابندی سے پڑھتا ہے) تو اس کے لئے یہ نماز ایمان کے نور (کی زیادتی کا سبب) اور ایمان کے کمال کی واضح دلیل ہوگی، نیز قیامت کے روز مغفرت کا ذریعہ بنے گی اور جو آدمی نماز پر محافظت نہیں کرتا تو اس کے لئے نماز نہ (ایمان کے) نور (کی زیادتی کا سبب بنے گی، نہ (کمال ایمان کی) دلیل اور نہ (قیامت کے روز) مغفرت کا ذریعہ بنے گی بلکہ ایسا آدمی قیامت کے روز قارون، فرعون، ہامان اور ابی ابن خلف کے ساتھ (عذاب میں مبتلا) ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل، دارمی، بیہقی)
تشریح
نماز کی محافظت کا مطلب یہ ہے کہ نماز باقاعدگی اور پوری پابندی سے پڑھی جائے۔ کبھی ناغہ نہ ہو، نیز نماز کے تمام فرائض واجبات سنن اور مستحبات اداء کئے جائیں، اس طرح جب کوئی نماز پڑھے گا تو کہا جائے گا کہ اس نے نماز کی محافظت کی اور یہ مذکورہ ثواب کا حقدار ہوگا اور جو آدمی اس کے برعکس عمل اختیار کرے گا کہ نہ تو نماز باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ پڑھے اور نہ نماز کے فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کی رعایت کرے تو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ ان چیزوں کو ترک کرنے کی وجہ سے مذکورہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ لہٰذا غور کرنا چاہئے کہ نماز کی محافظت اور اس پر دوام اختیار کرنے کی کس قدر تاکید ہے اس لئے اس میں کوتاہی کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اپنی بربادی کو دعوت دینا ہے۔ نیز یہ بھی خیال کرنا چاہئے کہ جب نماز کی محافظت نہ کرنے پر اس قدر و عید ہے کہ ایسے آدمی کا حشر مذکورہ لوگوں جیسے لعین و بدبخت کفار کے ساتھ ہونے کی خبر دی جا رہی ہے تو اس آدمی کا کیا حال ہوگا جو نماز ترک کرتا ہے اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا۔ قارون و فرعون جیسے مشہور لعین اور بدبختوں کو تو سب ہی جانتے ہیں۔ ہامان فرعون کا وزیر تھا ابی بن خلف وہ مشہور مشرک ہے جو رسول اللہ ﷺ کا جانی دشمن تھا اور جسے رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد میں اپنے دست مبارک سے موت کے گھاٹ اتار کر جہنم رسید کیا تھا چناچہ اسی وجہ سے اس لعین کو امت کے بدبختوں میں سے سب سے بڑا بدبخت کہا جاتا ہے۔ آخر میں اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو آدمی محافظت کرے گا یعنی پورے خلوص اور تمام فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کے ساتھ نماز ہمیشہ پابندی سے پڑھتا رہے گا تو قیامت کو وہ انبیاء کرام، صدیقین، شہداء اور صلحاء کے ہمراہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز کی پابندی اور پورے ذوق و شوق کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم سب اس سعادت سے بہرہ ور ہو سکیں۔
Top