Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 6195
وعن جابر قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اهتز العرش لموت سعد بن معاذ وفي رواية : اهتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ . متفق عليه
سعد بن معاذ کی فضیلت
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، سعد بن معاذ کے مرنے پر عرش ہل گیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ سعد بن معاذ کے مرنے پر رحمن ہل گیا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس بارے میں شارحین حدیث کے مختلف اقوال ہیں کہ عرش کے ہلنے کے کیا معنی ہیں اور اس کے ہلنے کا سبب کیا تھا؟ ایک قول میں یہ معنی بیان کئے گئے ہیں کہ جب حضرت سعد ؓ کا انتقال ہوا تو عرش الہٰی اس خوشی میں کہ پاک روح آئی ہے واقعۃً جھوم اٹھا۔ اور ایک قول میں یہ کہا گیا کہ عرش ہل گیا کے الفاظ دراصل حضرت سعد ؓ کی پاک روح آنے کے سبب عرش الہٰی کے حقیقی یا مجازی فرح ونشاط سے کنایہ ہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ ہلنے کے لفظ کو حقیقی معنی پر محمول کیا جائے جیسا کہ پہلے قول سے ثابت ہوتا ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جمادات میں بھی علم وتمیز کا مادہ رکھا ہے، جس کا ثبوت قرآن کریم کے ان الفاظ وان منہالما یہبط من خشیۃ اللہ سے بھی ملتا ہے اور آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے بھی جو آپ ﷺ نے احد پہاڑ کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم کو محبوب رکھتا ہے۔ بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ عرش کے ہلنے سے تعبیر فرمایا۔ اور بعض حضرات نے لکھا ہے۔ یہ الفاظ حضرت سعد ؓ کے سانحہ موت کو عرش کے ہلنے سے تعبیر فرمایا۔ اور بعض حضرات نے لکھا ہے۔ یہ الفاظ حضرت سعد ؓ کی وفات کے عظیم الشان سے کنایہ ہیں۔ جیسا کہ جب کسی بہت ہی اہم اور بڑی شخصیت کا انتقال ہوجاتا ہے، تو کہہ دیتے ہیں کہ اس کی وفات سے دنیا میں اندھیرا چھا گیا، یا یوں کہتے ہیں کہ فلاں کے مرنے پر قیامت آگئی۔ حضرت سعد بن معاذ حضرت سعد بن معاذ بن نعمان مدینہ انصار میں سے ہیں اور اشہلی اوسی ہیں، ان کا شمار اجلہ اور اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا جن کو آنحضرت ﷺ نے اپنی ہجرت سے پہلے دین کی تبلیغ وتعلیم کے لئے مدینہ بھیجا تھا۔ حضرت سعد ؓ کے اسلام لانے کے سبب بنی عبد الاشہل کا پورا خاندان دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو سید الانصار کا خطاب عطا فرمایا تھا جنگ بدر اور جنگ احد میں شریک ہوئے ہیں جنگ احد کے دن پوری جاں نثاری کے ساتھ ثابت قدم رہے اور آنحضرت ﷺ کے پاس سے ہرگز نہیں ہٹے غزوہ خندق کے موقع پر ان کی رگ ہفت اندام میں ایک تیر آکر لگا جس سے خون جاری ہوگیا اور کسی طرح رک نہ سکا یہاں تک کہ اسی کے سبب تقریبا ایک ماہ بعد ذیقعدہ ٥ ھ میں انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر ٣٧ سال کی تھی بقیع میں مدفون ہوئے، اسی موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا سعد کی موت پر ستر ہزار فرشتے اترے اور عرش الہٰی ہل گیا۔
Top