مشکوٰۃ المصابیح - نبی کریم ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان - 6107
اہل بیت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اطلاق کن کن پر ہوتا ہم : " اہل بیت " یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں " سے کون کون لوگ مراد ہیں ؟ اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ اہل بیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی آیا ہے جن کو زکوٰۃ کا مال لینا حرام ہے یعنی بنو ہاشم اور ان میں آل عباس، آل جعفر اور آل عقیل شامل ہیں۔ بعض روایتوں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل و عیال کو " اہل بیت " کہا گیا ہے جن میں ازواج مطہرات یقینی طور پر شامل ہیں، لہٰذا جو لوگ ازواج مطہرات کو اہل بیت سے خارج قرار دیتے ہیں وہ مکابرہ کا شکار ہیں اور قرآن کریم کی اس آیت (لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا) 33 ۔ الاحزاب : 23) ۔ سے اپنا اختلاف ظاہر کرتے ہیں کیونکہ جب اس سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ازواج مطہرات ہی کو مخاطب تو پھر ان کو (یعنی ازواج مطہرات کو) درمیان آیت کے مضمون (اہل البیت) اور اس کے مصداق میں شامل نہ کرنا آیت کو اس کے عبارتی تسلسل اور معنوی سیاق وسباق سے الگ کردینا ہے، چناچہ امام محمد فخرالدین رازی نے لکھا ہے کہ " یہ آیت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو شامل ہے کیونکہ آیت کا سیاق وسباق پوری شدت سے اس کا مقاضی ہے پس ازواج مطہرات کو اہل بیت کے مصداق سے خارج کرنا اور ان کے علاوہ دوسروں کو اس مصداق کے ساتھ مختص کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ امام رازی آگے لکھتے ہیں۔ یہ کہنا زیادہ بہتر اور اولی ہے کہ " اہل بیت " کا مصداق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد اور ازواج مطہرات ہیں اور ان میں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین بھی شامل ہیں، نیز حضرت علی بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خصوصی نسبت وتعلق اور خانگی قرب رکھنے کے سبب اہل بیت میں سے ہیں، تاہم بعض مواقع پر اہل بیت کا اطلاق اس طرح بھی آیا ہے کہ جس سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس کا مصداق صرف فاطمہ زہرا، علی مرتضی، حسن اور حسین ہیں جیسے حضرت انس کی روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز فجر کے لئے مسجد میں آتے تو راستہ میں حضرت فاطمہ کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے یوں فرماتے الصلوۃ یا اہل البیت، انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیرا۔ اس روایت، کو ترمذی نے نقل کیا ہے۔ اسی طرح ام المؤمنین حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ (ایک دن) میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس (گھر میں) بیٹھی ہوئی تھی کہ خادم نے آکر بتایا کہ علی اور فاطمہ باہر کھڑے ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (یہ سن کر) مجھ سے فرمایا کہ تم کنارے ہوجاؤ چناچہ میں گھر کے گوشہ میں چلی گئی۔ علی اور فاطمہ اندر آگئے اور ان کے ساتھ حسن و حسین بھی تھے جو اس وقت ننھے منے تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن اور حسین کو آغوش مبارک میں بٹھا لیا اور ایک ہاتھ سے علی کو اور دوسرے ہاتھ سے فاطمہ کو پکڑ کر اپنے بدن سے چمٹایا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے أپنی کالی کملی اس سب پر لپیٹی جو جو اس وقت جسم مبارک پر تھی اور فرمایا : خداوندا ! یہ میرے اہل بیت ہیں، مجھ کو اور میرے اہل بیت کو اپنی طرف بلانہ کہ آگ کی طرف " اور حضرت ام سلمہ ہی سے یہ بھی منقول ہم کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : میری یہ مسجد ہر حائضہ عورت اور ہر جنبی مرد پر حرام ہے (جو عورت حیض کی حالت میں ہو یا جو مرد ناپاکی کی حالت میں ہو وہ میری مسجد میں ہرگز داخل نہ ہو) ہاں محمد اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت پر کہ وہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں، حرام نہیں ہے " اس روایت کو بیہقی نم نقل کیا ہے اور اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ بہر حال ایک طرف تو وہ روایتیں ہیں جن سے بنو ہاشم اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل و عیال پر " اہل بیت " کا اطلاق ثابت ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ روایتیں ہیں جن سے اہل بیت کا مصداق صرف حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین معلوم ہوتے ہیں بلکہ ان ہی چہار تن پاک پر اہل بیت کا اطلاق شائع اور مشہور بھی ہے لہٰذا علماء نے ان تمام روایتوں میں تطبیق اور ان کے اطلاقات کی توجیہہ میں یہ کہا ہے کہ " بیت " کی تین نو عیتیں ہیں (١) بیت نسب (٢) بیت سکنی (٣) ولادت۔ پس بنوہاشم یعنی عبد المطلب کی او لاد کو تو نسب اور خاندان کے اعتبار سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اہل بیت (اہل خاندان) کہا جائے گا۔ دراصل عرب میں جد قریب کی اولاد کو بیت (یعنی خاندان یاگھرانہ) یا خاندان سے اس شخص کے باپ اور دادا کی اولاد مراد ہوتی ھم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو اہل بیت سکنی (اہل خانہ) کہا جائے گا چناچہ عرف عام میں کسی شخص کی بیویوں کو اس کے اہل بیت یا " گھروالی " سے تعبیر کیا جانا مشہور ہی ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد (ماجد کو اہل بیت ولادت کہا جائے گا اور اگرچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام ہی اولاد پر اہل بیت ولادت کا اطلاق کیا جانا چاہئے لیکن تمام اولاد میں حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسنین کو جو خاص فضل وشرف اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کمال قرب وتعلق حاصل تھا اور یہ کہ ان کے فضائل ومناقب جس کثرت سے احادیث میں وارد ہیں اس کی بناء پر اہل بیت ولادت کا خصوصی و امتیازی مصداق صرف یہی چار تن مانے جائیں گے۔ واضح ہو کہ اس باب میں مولف مشکوٰۃ نے جو احادیث اور روایات نقل کی ہیں، اہل بیت کی نسبت سے ان کا تعلق بعض بنوہاشم سے بھی ہے اور علی وفاطمہ اور حسن و حسین سے بھی اور ابراہیم بن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ہے۔ علاوہ ازیں اس ضمن میں حضرت زید بن حارثہ اور ان کے بیٹے حضرت اسامہ کا ذکر بھی آیا ہے اور ان دونوں کا ذکر یا تو غالباً اس بناء پر ہے کہ ان دونوں پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بےانتہا محبت و عنایت تھی یا اس سبب سے ہے کہ شاید ان دونوں کو بھی مؤلف مشکوٰۃ نے اہل بیت میں شمار کا ہے اسی طرح مولف مشکوٰۃ نے جو اس باب میں ازواج مطہرات کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان کے لئے علیحدہ سے باب قائم کیا ہے تو اس کی وجہ سے بھی یا تو یہ ہے کہ ان کے مخصوص مناقب و فضائل کے اعتبار سے ان کا ذکر مستقل طور علیحدہ ہی باب میں کیا جانا موزوں جانا گیا یا عرف عام کی رعایت سے ان کا ذکر " اہل بیت " سے الگ کر کے کیا گیا کیونکہ عام طور سے " اہل بیت " کا اطلاق انھی چار تن پر ہوتا ہے۔ "
Top