Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 1979
وعن ابن عباس قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني رأيت الهلال يعني هلال رمضان فقال : أتشهد أن لا إله إلا الله ؟ قال : نعم قال : أتشهد أن محمدا رسول الله ؟ قال : نعم . قال : يا بلال أذن في الناس أن يصوموا غدا . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي
شہادت ہلال
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے آنحضرت ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم کیا اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں؟ اس نے کہا ہاں اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا کہ بلال لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص مستور الحال ہو یعنی اس کا فاسق ہونا معلوم نہ ہو تو رمضان کے چاند کے بارے میں اس کی شہادت معتبر اور قابل قبول ہوگی نیز یہ کہ رمضان کے چاند کی گواہی دیتے ہوئے لفظ شہادت کا استعمال شرط نہیں ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہلال رمضان شریف شہادت میں صرف ایک شخص کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے چناچہ حنفی مسلک میں صحیح مسئلہ یہی ہے کہ ہلال رمضان کی رویت ایک عادل یا مستور الحال شخص کی شہادت سے ثابت ہوجاتی ہے نیز یہ کہ ہلال رمضان کی شہادت میں لفظ شہادت کا استعمال شرط نہیں ہے مگر ایک شخص کی گواہی اسی صورت میں معتبر ہوگی جب کہ مطلع ابرو غبار آلود ہو اگر عید کی چاند رات کو ابرو غبار ہو تو پھر دو مرد یا ایک مرد اور دو عادل و آزاد عورتوں کی شہادت ہی معتبر ہوگی نیز یہ کہ اس موقع پر لفظ شہادت کا استعمال بھی شرط ہوگا پھر موقع و محل کے پیش نظر شہادت کی صورت بھی بدلتی رہتی ہے۔ مطلع صاف ہو تو جماعت کثیرہ کی شہادت ضروری ہوگی۔
Top