Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 2344
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال : يا محمد أقرئ أمتك مني السلام وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء وأنها قيعان وأن غراسها سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث حسن غريب إسنادا
تسبیحات جنت کے درخت ہیں
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس رات مجھے معراج کی سعادت نصیب ہوئی ہے اس رات میں ساتوں آسمانوں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے میری ملاقات ہوئی جو بیت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے انہوں نے مجھ سے کہا۔ محمد! اپنی امت کو میرا سلام کہئے گا اور انہیں بتا دیجئے گا کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے اور وہ مٹی کی بجائے مشک وزعفران ہے اس کا پانی شیریں ہے اس کا میدان پٹ پڑ (یعنی ہموار اور درختوں سے خالی ہے) اور اس کے درخت ہیں سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ روایت باعتبار اسناد کے غریب ہے۔
تشریح
اس امت مرحومہ کی شان محبوبی اور شان عظمت کے صدقے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کے واسطہ سے اسے سلام کہلایا اور اس طرح اس امت سے اپنے تعلق کا اظہار کیا اس لئے اس امت کے ایک ایک فرد کے لئے یہی لائق ہے کہ اس حدیث کے ذریعہ جب بھی حضرت ابراہیم کا سلام سنایا جائے یا پڑھاجائے تو یہ کہا جائے وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ وان غراسہا سبحان اللہ (اور اس کے درخت ہیں سبحان اللہ الخ) کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کو آگاہ کر دیجئے گا کہ یہ کلمات اور انہیں کی طرح دوسرے کلمات ذکر پڑھنے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے اور چونکہ جنت میں بہت سے درخت لگائے جاتے ہیں بایں طور کہ ہر کلمے کے پڑھنے سے ایک درخت لگتا ہے اس لئے ان کلمات کو جو شخص جتنا زیادہ پڑھے گا اس کی طرف سے جنت میں اتنے ہی زیادہ درخت لگائے جائیں گے۔ یہ گویا اس طرف اشارہ ہے کہ ان کلمات کو پڑھنے والا جنت کی پر سکون اور پر راحت فضا اور وہاں کے سرور آمیز اطمینان وچین کا حقدار ہوگا اور وہاں یہ کلمات درخت کی شکل میں لازوال سکون آمیز حیات کے ضامن ہوں گے۔
Top