Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 2853
سود کا بیان
سود ایک معاشرتی لعنت وعفریت ہے جس کی اقتصادی تباہ کاریوں نے ہمیشہ ہی غربت کے لہو سے سرمایہ داری کی آبیاری کی ہے اور غریب کے سسکتے وجود سے سرمایہ دار کی ہوس کو غذا بخشی ہے چناچہ اس لعنت میں مبتلا ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں تنبیہہ کی ہے ا یت (فان لم تفغلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ) پھر اگر تم اس سود خوری چھوڑنے کے حکم پر عمل نہ کرو تو پس اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو اسلام نے تجارت اور قرض دونوں میں سود کو حرام قرار دیا ہے اور اس کا ارتکاب گناہ کبیرہ بتایا ہے جو مسلمان سود کے حرام ہونے کا قائل نہ ہو اسلامی قانون کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ کافر ہوجاتا ہے۔ یہ لعنت بہت پرانی ہے اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں بھی اس کا طریقہ رائج تھا چناچہ قریش مکہ اور یہود مدینہ میں اس کا عام رواج تھا اور ان میں صرف شخصی ضرورتوں مثلًا قرض وغیرہ ہی کے لئے نہیں بلکہ تجارتی مقاصد کے لئے بھی سود کا لین دین جاری تھا۔ اسی طرح سود کی تباہ کاریاں بھی ہمیشہ ہی تسلیم شدہ رہی ہیں اور اس کو اختیار کرنے والے بھی کبھی اس کے مضر اثرات سے منکر نہیں رہے ہیں البتہ ایک نئی بات یہ ضرور ہوئی ہے کہ جب سے یورپ کے دلال دنیا کی مسند اقتدار و تجارت پر چھائے ہیں انہوں نے مہاجنوں اور یہودیوں کے اس خاص کاروبار کو نئی نئی شکلیں اور نئے نئے نام دے کر اس کا دائرہ اتنا وسیع کردیا ہے کہ وہی سود جو پہلے انسان کی معاشرتی زندگی کا ایک گھن سمجھا جاتا تھا آج معاشیات اقتصادیات اور تجارت کے لئے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانے لگا ہے اور سطحی ذہن وفکر رکھنے والوں کو یقین ہوگیا ہے کہ آج کوئی تجارت یا صنعت یا اور کوئی معاشی نظام سود کے بغیر چل ہی نہیں سکتا اگرچہ آج بھی اہل یورپ ہی میں سے وہ لوگ جو تقلید محض اور عصبیت سے بلند ہو کر وسیع نظر سے معاملات کا جائزہ لیتے ہیں اور جو معاشیات (ECONOMICS) کا وسیع علم ہی نہیں رکھتے بلکہ اس کے عملی پہلوؤں پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں خود ان کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ سود معاشیات اور اقتصادی زندگی کے لئے ریڑھ کی ہڈی نہیں بلکہ ایک ایسا کیڑا ہے جو ریڑھ کی ہڈی میں لگ گیا ہے اور جب تک اس کیڑے کو نہ نکالا جائے گا دنیا کی معیشت جو جو اضطراب وہیجان ہے وہ ختم نہیں ہوگا۔ اس میں شبہ نہیں کہ آج دنیا میں سود کا لین دین جتنا وسیع ہوگیا ہے اور دنیا کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک تمام ہی تجارتوں میں اس کا جال جس طرح بچھا دیا گیا ہے افراد واشخاص کی کیا حیثیت اگر کوئی پورا طبقہ و جماعت بلکہ کوئی پورا ملک بھی اس سے نکلنا چاہے تو اس کو اس کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوگا کہ یا تو اپنی تجارت ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے یا نقصان برداشت کرتا رہے یہی وجہ ہے کہ اب تو عام مسلمان تاجر الگ رہے وہ دیندار و پرہیزگار مسلمان تاجر جن کی اعتقادی وعملی زندگی بڑی پاکیزہ اور مثالی ہے اب انہوں نے بھی یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ سود جو حرام ترین چیز اور بدترین سرمایہ ہے اس سے کس طرح نجات حاصل کریں جس کا تنیجہ یہ ہے ان دیندار اور پابند شریعت مسلمانوں اور ایک خالص دیندار مہاجن میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ لہذا سود کی ہمہ گیری کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان اس عام مجبوری کا سہارا لے کر اتنی بڑی لعنت سے بالکل بےپرواہ ہو کر بیٹھ جائیں اور ان کے دل میں ذرہ برابر کھٹک بھی پیدا نہ ہو کہ وہ کتنی بڑی حرام چیز میں مبتلا ہیں آج سود کے بارے میں جو تاویلیں کی جاتی ہیں یا اس کو جو نئی نئی شکلیں دی جاتی ہیں یاد رکھئے وہ سب اسی درجے میں حرام ہیں جس درجے میں خود سود کی حرمت ہے۔ اس لئے مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی معاملات کو اس انداز میں استوار کریں جس سے حتی الامکان اس لعنت سے نجات مل سکے اگر موجودہ معاشی نظام میں اس حد تک تبدیلی ان کے بس میں نہیں ہے کہہ جس میں سود کا دخل نہ ہو تو کم سے کم اپنی زندگی اور نجی معاملات ہی کو درست کریں تاکہ سود کی لعنت سے اگر بالکل نجات نہ ملے تو کم از کم اس میں کمی ہی ہوجائے اور مسلمان ہونے کا یہ ادنیٰ تقاضہ تو پورا ہو کہ وہ حتی الامکان حرام سے بچنے کی فکر میں رہے۔ بہرکیف اس باب میں اسی موضوع سے متعلق احادیث ذکر ہوں گی جن کے ضمن میں حسب موقع سود کے احکام و مسائل بیان کئے جائیں گے لیکن یہ ضروری ہے کہ پہلے اس موضوع سے متعلق چند بنیادی باتیں بتادی جائیں
Top