Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 3440
عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لزوال الدنيا أهون على الله من قتل رجل مسلم . رواه الترمذي والنسائي ووقفه بعضهم وهو الأصح (2/288) 3463 - [ 18 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه ابن ماجه عن البراء بن عازب (2/288) 3464 - [ 19 ] ( لم تتم دراسته ) وعن أبي سعيد وأبي هريرة عن رسول صلى الله عليه و سلم قال : لو أن أهل السماء والأرض اشتركوا في دم مؤمن لأكبهم الله في النار . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
خون مسلم کی اہمیت
حضرت عبداللہ ابن عمرو سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری دنیا کا ختم ہوجانا ایک مرد مؤمن کے قتل ہوجانے سے زیادہ سہل ہے۔ (ترمذی، نسائی) اور بعض راویوں نے اس حدیث کو موقوف بیان کیا ہے (یعنی یہ کہا ہے کہ یہ حدیث نبوی نہیں ہے بلکہ عبداللہ ابن عمرو کا قول ہے) اور یہی زیادہ صحیح ہے، نیز ابن ماجہ نے اس روایت کو ( عبداللہ ابن عمرو کی بجائے) حضرت براء ابن عازب سے نقل کیا ہے۔
تشریح
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چیزیں زمین و آسمان وغیرہ مسلمانوں کے لئے پیدا کی ہیں تاکہ وہ پروردگار کی عبادت کریں اور چیزوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین رکھیں، لہٰذا جس شخص نے کسی مسلمان کو کہ جس کے لئے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے، قتل کیا اس نے گویا پوری دنیا کو فنا کے گھاٹ اتار دیا، چناچہ اسی نکتہ کی طرف قرآن کریم کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے ( مَنْ قَتَلَ نَفْسً ابِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا) 5۔ المائدہ 32)۔ جس شخص نے کسی کو ناحق قتل کیا (یعنی بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے ملک میں فتنہ فساد پھیلانے کی سزا دی جائے، اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا۔ اور حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر (یہ ثابت ہوجائے کہ آسمان والے اور زمین والے سب کے سب کسی ایک مرد مؤمن کے قتل میں شریک ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو دوزخ کی آگ میں الٹا ڈال دے گا امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح بعض شارحین نے لکھا ہے لفظ اکبہم فعل لازم ہے اور لفظ کبہم فعل متعدی ہے لہٰذا یہاں کسی راوی سے سہو ہوگیا ہے کہ اس نے لکبہم کی بجائے لاکبہم نقل کردیا ہے، لیکن ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ لفظ اکبہ قاموس میں لازمی اور متعدی دونوں طرح نقل کیا گیا ہے، اس اعتبار سے زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ ثقہ اور عادل راویوں کی طرف خطا اور سہو کی نسبت کرنے سے اولی اور احوط یہ ہے کہ بعض بلکہ تمام اہل لغت کی طرف خطا کی نسبت کردی جائے۔ بہرکیف چونکہ یہاں لفظ اکبہم ہے اس لئے اس موقع پر یہ تحقیق پیش کی گئی، جامع صغیر میں اس روایت کے یہ الفاظ منقول ہیں (لکبہم اللہ عزوجل فی النار)۔
Top