Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 4460
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم المعدة حوض البدن والعروق إليها واردة فإذا صحت المعدة صدرت العروق بالصحة وإذا فسدت المعدة صدرت العروق بالسقم .
معدے کی مثال
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (آدمی کا) معدہ بدن کا حوض ہے اور پیٹ کی رگیں (جو اعضاء جسم سے پیوستہ ہیں) معدہ کی طرف (پانی پینے والے کی طرح) آتی ہیں جب معدہ درست ہوتا ہے تو یہ رگیں معدہ سے صحت بخش رطوبات کے ساتھ اعضاء کی طرف جاتی ہیں (جس سے بدن کو صحت و طاقت حاصل ہوتی ہے) اور جب معدہ خراب ہوتا ہے تو یہ رگیں فاسد رطوبات کے ساتھ اعضاء کی طرف جاتی ہیں (جس سے بدن کو بیماری اور ضعف لاحق ہوجاتا ہے )۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ انسان کے بدن اور اس کے معدہ کے درمیان وہی نسبت ہے جو پانی کے تالاب وغیرہ اور درخت کے درمیان ہے کہ جس طرح کسی تالاب کے کنارے یا پانی میں کھڑا ہوا درخت اپنے رگ و ریشہ کے ذریعہ پانی سے حیات بخش رطوبات حاصل کرتا ہے اسی طرح جسم انسانی مختلف رگوں کے ذریعہ اپنے معدہ سے صحت و طاقت کی رطوبات حاصل کرتا ہے چناچہ اگر پانی صاف و شیریں ہوتا ہے تو وہ درخت کی تازگی اور نشو و نما کا سبب بنتا ہے اور اگر پانی گدلا اور کھارا ہوتا ہے تو وہ درخت کی پژمزدگی وخش کی کا باعث بن جاتا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حدیث کو طب نبوی پر محمول کیا جائے اس صورت میں مذکورہ بالا ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہوگا کہ انسان کے اقوال و افعال، کردار و عادات اور اخلاق واطوار اس کی غذا و خوراک کے مطابق ہوتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے پیٹ میں حرام غذا داخل ہوتی ہے تو اس کے اعضاء جسم سے حرام افعال و اقوال صادر ہوتے ہیں اسی طرح اگر کسی شخص کے پیٹ میں کھانے پینے کی فضول وغیرہ مناسب چیزیں جاتی ہیں تو اس کے جسم کے ہر چھوٹے بڑے عضو سے فضول و غیر مناسب افعال وغیرہ صادر ہوتے ہیں اس کے برخلاف جس شخص کے پیٹ میں حلال و پاک غذائیں جاتی ہیں اس کے اعضاء وجسم سے صالح و پاکیزہ افعال صادر ہوتے ہیں گویا انسان کی غذا اس کے افعال کا تخم ہے اور افعال بمنزلہ روئیدگی کے ہیں اور اس کے پیٹ میں جس طرح کی غذا جائے گی اس کے اعضاء سے اسی طرح کے افعال ظاہر ہوں گے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ اناء یترشح بما فیہ یعنی ہر برتن سے وہی چیز ٹپکتی اور نکلتی ہے جو اس کے اندر ہوتی ہے۔ اسی لئے حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ آیت (کلوا من الطبیت واعملوا صالحا)۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے من نبت لحمہ من سحت فالنار اولی بہ۔ بعض محدثین نے اس حدیث کے بارے میں کلام کیا ہے اور بعض نے تو اس کو موضوع من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ لااصل لہ (یعنی اس حدیث کو کوئی اصل نہیں ہے) لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ باطل ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں ہے غیر صحیح بات کیونکہ تعدد طرق کے سبب اور طبرانی وبہیقی کی روایت کی بنا پر اس کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اس بنا پر اس حدیث کو بلا شک و شبہ حسن یا ضعیف کہا جاسکتا ہے۔
Top