Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - - حدیث نمبر 44
وعن عمرو بن الشريد عن أبيه قال كان في وفد ثقيف رجل مجذوم فأرسل إليه النبي صلى الله عليه وسلم إنا قد بايعناك فارجع . رواه مسلم .
جذامی کا ذکر
اور حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ ثقیف کے لوگوں کا جو وفد (دربار رسالت میں) آیا تھا اس میں ایک جذامی تھا ( جب اس نے بیعت کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا) تو نبی کریم ﷺ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیج کر کہلا دیا کہ ہم نے (تمہارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے بغیر) تم سے (زبانی) بیعت لے لی ہے تم لوٹ جاؤ (گویا آپ ﷺ نے اس کو سامنے نہیں بلایا تاکہ حاضرین مجلس کو کراہت محسوس نہ ہو) (مسلم )۔
تشریح
جذامی سے ملنے جلنے میں اجتناب و احتراز کے بارے میں ایک تو یہ حدیث ہے، دوسری حدیث وہ ہے جو پیچھے گزری ہے اور جس میں فرمایا گیا کہ جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو ان دونوں حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جذامی کی صحبت و مجالست سے اجتناب و پرہیز کرنا چاہئے، جب کہ وہ احادیث ان کے برعکس ہیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ کسی بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں بالکل متضاد ہیں، اس تضاد کو دور کرنے کے لئے اور ان احادیث کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء کے متعدد اقوال منقول ہیں، حضرت شیخ ابن عسقلانی نے شرح نخبہ میں لکھا ہے کہ احادیث کے اس باہمی تضاد کو دور کرنے کے لئے سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جن احادیث میں عدویٰ یعنی چھوت کی نفی کی گئی ہے ان کا حکم اپنے عموم و اطلاق کے ساتھ قائم و باقی ہے اور ان لوگوں کی مخالطت و مجالست جو جذام جیسے امراض میں مبتلا ہوں ان کی بیماری لگنے کا سبب ہرگز نہیں ہوتا اور جہاں تک احادیث کا تعلق ہے جو جذامی سے اجتناب و پرہیز کو ظاہر کرتی ہیں تو ان کا مقصد محض ادہام و وساوس کا سد باب ہے کہ کوئی شخص شرک کے گرداب میں نہ پھنس جائے۔ اس بات کو زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے جذامی کے ساتھ مخالطت و مجالست اختیار کی، یعنی ان کے ساتھ بیٹھا اٹھا اور اس کے ساتھ ملنا جلنا جاری رکھا اور پھر اسی دوران اللہ کا یہ حکم ہوا کہ وہ شخص بھی جذام میں مبتلا ہوگیا تو بعید نہیں کہ وہ اس وہم و اعتقاد میں مبتلا ہوجائے کہ میں اس جذامی کی مخالطت و مجالست ہی کی وجہ سے اس مرض میں گرفتار ہوا ہوں لہٰذا آپ ﷺ نے لوگوں کو اس وہم و اعتقاد سے بچانے کے لئے جو کفر و شرک کی حد تک پہنچاتا ہے، جذامی سے اجتناب و پرہیز کرنے کا حکم دیا، یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خود اپنی ذات کو حکم سے مستثنیٰ رکھا کیونکہ آپ توکل و اعتقاد علی اللہ کے مرتبہ اعلی پر فائز تھے اس کی بنا پر مذکورہ وہم و گمان میں آپ ﷺ کے مبتلا ہونے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا تھا، چناچہ ایک دن آپ ﷺ ایک جذامی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لائے اور پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، حاصل یہ کہ جذامی سے اجتناب و پرہیز کرنے کا حکم اس شخص کے لئے ہے جو اپنے صدق و یقین کی طاقت نہ رکھے اور اس بات کا خوف ہو کہ اگر وہ کسی جذامی کی مخالطت ومجالست کے دوران خود اس مرض میں مبتلا ہوگیا تو اس وہم و اعتقاد کا شکار ہو کر شرک خفی کے گرداب میں پھنس جائے گا۔ کرمانی نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ بیماری کے چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو جذام کی بیماری اس سے مستثنیٰ ہے۔ نووی کہتے ہیں کہ جذام میں ایک خاص قسم کی بدبو ہوتی ہے اگر کوئی شخص کسی جذامی کے ساتھ مخالطت و مجالست اور ہم خوری وہم بستری میں زیادتی اختیار کرے تو وہ بو اس کو متاثر کرتی ہے اور بیمار کردیتی ہے۔ جیسا کہ اگر کوئی شخص ایسا کھانا کھالے یا ایسی بو میں پھنس جائے جو اس کے مزاج و طبیعت کے موافق نہ ہو یا اس کا مضر ہونا ظاہر ہو تو اس شخص سے متاثر ہوتا ہے اور مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اگرچہ یہ چیزیں محض ایک ظاہری ذریعہ وسبب بنتی ہے حقیقت میں وہ بیماری اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے لاحق ہوتی ہے اس اعتبار سے جذامی سے پرہیز طبی نقطہ نظر اور حصول حفظان صحت کی رو سے ہوگا نہ کہ اس کو چھوت سمجھنے کی وجہ سے۔
Top