Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 5190
وعن صهيب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عجبا لأمر المؤمن كله خير وليس ذلك لأحد إلا للمؤمن إن أصابته سراء شكر فكان خيرا له وإن أصابته ضراء صبر فكان خيرا له رواه مسلم
مومن کی مخصوص شان
حضرت صہیب ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا مومن کی بھی عجیب شان ہے کہ اس کی ہر حالت اس کے لئے خیر و بھلائی کا باعث ہے اور یہ بات صرف مومن کے لئے مخصوص ہے کوئی اور اس کے وصف میں شریک نہیں ہے اور اس کو رزق وفراخی و وسعت، راحت، چین، صحت و تندرستی، نعمت ولذت اور طاعت و عبادت کی توفیق کی صورت میں خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، بس یہ شکر اس کے لئے خیر و بھلائی کا باعث ہوتا ہے اور اگر اس کو فقر و افلاس، مرض و تکلیف، رنج والم اور آفات وحادثات کی صورت میں مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے پس یہ صبر بھی اس کے لئے خیر و بھلائی کا باعث ہوتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اپنی شب و روز کی زندگی میں یا تو ایسی حالت سے دوچار ہوتا ہے جو اس کو رنج و تکلیف میں مبتلا کردیتی ہے یا وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ خوشی ومسرت محسوس کرتا ہے ان دونوں حالتوں سے کوئی شخص خالی نہیں ہوتا، پس مومن کے لئے رنج و تکلیف میں مبتلا کرنے والی حالت صبر کا تقاضہ کرتی ہے اور خوشی ومسرت دینے والی حالت شکر کا اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں مقام صبر و شکر، نہایت اعلی ہیں اور بہت زیادہ اجر وثواب کا باعث بنتے ہیں، اس طرح مومن گویا ہر حالت میں اعلیٰ مقام و مرتبہ اور بہت زیادہ اجر وثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اوپر حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ اور یہ بات صرف مومن کے لئے مخصوص ہے تو بظاہر مومن سے مراد مومن کا دل ہے کیونکہ یہ کامل مومن کی ہی شان ہوتی ہے کہ وہ تنگی و سختی اور رنج و تکلیف کی حالت میں صبر کرتا ہے اور خوش حالی ومسرت کی صورت میں شکر گزار ہوتا ہے، اس کے برخلاف غیر کامل مومن کا یہ حالت ہوتا ہے کہ اگر اس کو رفہ وخوش حالی اور خوشی ومسرت کے اسباب میسر ہوجاتے ہیں تو وہ مغرور ہوجاتا ہے اور خلاف شرع باتیں کرنے لگتا ہے۔ اور اگر تنگی و سختی اور رنج و تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو جزع فزع، شکوہ شکایت اور کفران نعمت کرنے لگتا ہے۔ لہٰذا ہر مومن کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جس حالت میں بھی ہو اس کے مطابق اپنی کیفیت کا جائزہ لے اور دیکھے کہ وہ اپنے فکر و خیال اور قول وفعل کے اعتبار سے اس حدیث کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اور پھر کامل مومن کہلانے کا مستحق ہے یا نہیں۔
Top