Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 5408
وعن محمد بن المنكدر قال رأيت جابر بن عبد الله يحلف بالله أن ابن الصياد الدجال . قلت تحلف بالله ؟ قال إني سمعت عمر يحلف على ذلك عند النبي صلى الله عليه وسلم فلم ينكره النبي صلى الله عليه وسلم . متفق عليه .
ابن صیاد، دجال ہے
اور حضرت محمد ابن منکدر تابعی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ کو دیکھا وہ قسم کھا کر کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں! ( حالانکہ ابن صیاد کا دجال ہونا صرف ظنی ہے نہ کہ یقینی) انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر فاروق ؓ کو سنا، وہ اس بات پر نبی کریم ﷺ کے سامنے قسم کھاتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس سے انکار نہیں فرمایا ( اگر یہ بات یقینی نہ ہوتی تو یقینا آنحضرت ﷺ حضرت عمر ؓ کی اس بات کا انکار کرتے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ہوسکتا ہے کہ حضرت جابر اور حضرت عمر ؓ کا قسم کھانا اس بات پر ہو کہ ابن صیاد، ان دجالوں ( یعنی جھوٹوں اور غریبوں میں سے ایک ہے جو وقتا فوقتا اس امت میں پیدا ہوتے رہیں گے اور اپنی نبوت کا دعوی کرکے لوگوں کو گمراہ کریں گے اور شکوک و شبہات میں مبتلا کریں گے گویا ان دونوں کی قسم کا تعلق اس بات سے نہیں تھا کہ ابن صیاد واقعۃ دجال ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ابن صیاد کے معاملہ کو مبہم رکھ کر گویا اس بات کی تردید فرما دی تھی کہ وہ یقینی طور پر دجال ہے! لیکن روایت کے الفاظ میں مطلق دجال کا ذکر ہے اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ان دونوں حضرات کے نزدیک دجال معہود ہی مراد تھا اس صورت میں ان دونوں کی قسم کو غلبہ ظن کے وقت قسم کھا لینے کے جواز پر محمول کیا جائے گا نیز آگے دوسری فصل میں حضرت ابن عمر ؓ کی جو روایت آرہی ہے اس میں انہوں نے صراحۃ بیان کیا ہے کہ ابن صیاد دجال معہود تھا پس ہوسکتا ہے کہ ابن عمر ؓ کا مسلک بھی یہی رہا ہو بہر حال یہ بات پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ ابن صیاد کے سلسلہ میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف و اشتباہ تھا۔
Top