Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6057
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فيك مثل من عيسى أبغضته اليهود حتى بهتوا أمه وأحبته النصارى حتى أنزلوه بالمنزلة التي ليست له . ثم قال : يهلك في رجلان : محب مفرط يقرظني بما ليس في ومبغض يحمله شنآني على أن يبهتني . رواه أحمد
ایک مثال ایک پیش گوئی
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے مجھ کو فرمایا تم میں عیسیٰ (علیہ السلام) سے ایک طرح کی مشابہت ہے یہودیوں نے ان (عیسیٰ (علیہ السلام) سے بغض رکھا تو اتنا زیادہ رکھا کہ ان کی ماں (مریم (علیہ السلام) پر (زنا کا) بہتان باندھا اور عیسائیوں نے ان سے محبت و وابستگی قائم کی تو اتنی (زیادہ اور غلو کے ساتھ قائم کی) کہ ان کو اس مرتبہ ومقام پر پہنچا دیا جو ان کے لئے ثابت نہیں ہے (یعنی ان کو اللہ یا ابن اللہ قرار دے ڈالا) یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت علی نے کہا (مجھے یقین ہے کہ اس ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح میرے بارے میں بھی) دو شخص یعنی دو گروہ اس طرح ہلاک (یعنی گمراہ) ہوں گے کہ ان میں سے ایک تو جو مجھ سے محبت رکھنے والا ہوگا اور اس محبت میں حد سے متجاوز ہوگا، مجھ کو ان خوبیوں اور بڑائیوں کا حامل قرار دے گا جو مجھ میں نہیں ہونگی اور ایک جو مجھ سے بغض وعناد رکھنے والا ہوگا، میری دشمنی سے مغلوب ہو کر مجھ پر بہتان باندھے گا۔ (احمد )
تشریح
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں جو پیش گوئی فرمائی اور جس کی طرف خود حضرت علی نے واضح طور پر اشارہ کیا وہ پوری ہو کر رہی۔ روافض اور شیعوں نے حب علی میں حد سے اس قدر تجاوز کیا کہ تمام صحابہ پر یہاں تک کہ انبیاء پر ان کی فضیلت کے قائل ہوئے بلکہ بعض طبقوں (جیسے نصیریوں وغیرہ) نے تو حضرت علی کو مقام الوہیت تک پہنچا دیا، ان کے مقابلہ پر دوسرا گروہ وہ خارجیوں کا پیدا ہوا، وہ حضرت علی کی دشمنی میں حد تک بڑھ گئے کہ کوئی بڑے سے بڑا بہتان ایسا نہیں چھوڑا جو ان کی پاکیزہ شخصیت پر انہوں نے نہ باندھا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ محبت وعقیدت وہی مستحسن و مطلوب ہے جو حد سے زیادہ متجاوز نہ ہو اور عقل و شریعت کے مسلمہ اصول کے مطابق ہو، ایسی محبت وعقیدت جو حد سے متجاوز ہو درحقیقت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے اور غیر معتدل ہونے کے سبب راہ مستقیم سے باہر کردیتی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی محبت وعقیدت رکھنے والے شخص کو جو اگرچہ بظاہر مسلمان ودیندار نظر آتا ہے گمراہ انسان کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کو جس چیز نے راہ مستقیم پر گامزن کر رکھا ہے وہ محبت وعقیدت کے باب میں ان کا اعتدال و توازن ہے کہ وہ افراط اور تفریط دونوں سے محفوظ ہیں، بہرحال اہل ایمان واسلام کی زندگی کا سرمایہ سعادت دو چیزیں ہیں ایک تو خاندان نبوت کی محبت اور دوسری اصحاب نبی ﷺ کی تعظیم جو شخص اس سرمایہ سعادت کو حاصل کرکے اپنی اور عقبی بنانا چاہئے اس کو لازم ہے کہ ان دونوں کے درمیان اعتدال و توازن رکھے اور اسی اعتدال و توازن کے ساتھ ان دونوں کی محبت کو اپنے اندر جمع کرے۔ امام احمد نے ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا علی نے فرمایا یحبنی اقوام حتی یدخلوا النار فی حبی ویبغضنی اقوام حتی یدخلوا النار فی بغضی۔ کچھ گروہ مجھ سے محبت رکھیں گے یہاں تک کہ میری محبت (میں غلو) کے سبب ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور کچھ کروں مجھ سے دشمنی رکھیں گے یہاں تک کہ میری دشمنی کے سبب وہ دوزخ میں جائیں گے۔ امام احمد نے حضرت علی کی یہ دعا نقل کی ہے۔ اللہم العن کل مبغص لنا وکل محب لنا غال الہٰی! ہم سے دشمنی رکھنے والوں پر لعنت کر اور ہمارے غالی محبین پر بھی لعنت کر۔
Top