Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6061
لفظ " مولا " کے معنی
اب آئیے یہ دیکھیں کہ شیعہ جس لفظ مولا کی بنیاد پر اس حدیث کو حضرت علی کے استحقاق خلافت بلافصل پر نص صریح قرار دیتے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے مولا کے ایک دو نہیں کئی معنی ہیں رب، مالک، آقا، مددگار، دوست، تابع، پیروی کرنے والا، پڑوسی، چچازاد بھائی، حلیف، داماد، آزاد کردہ غلام اور احسان مند وغیرہ وغیرہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی کلام میں کوئی ایسا لفظ لایا گیا ہو جو مختلف معانی رکھتا ہو اور ان میں سے کچھ معنی ایک دوسرے سے ترادف و اشتراک بھی رکھتے ہوں تو ان میں سے کسی خاص معنی کو متعین اور مراد لینا اس صورت میں معتبر ہوگا جب کہ اس کی کوئی دلیل اور اضح قرینہ موجود ہو، یا اگر وہ لفظ متنازعہ بن گیا ہو تو اس معنی کو مراد لینا زیادہ صحیح مانا جاتا ہے جس میں قدر مشترک پایا جاتا ہو اس اصول کے تحت اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ لفظ مولا کے معنی حاکم و والی مراد لینا صحیح نہیں ہے، صحیح تو دوست و مددگار مراد لینا ہیں کیونکہ اول تو سیاق حدیث کا واضح قرینہ اور دلیل اس معنی کے حق میں ہے، دوسری دلیل یہ کہ لفظ مولا کا امام یعنی حاکم والی کے معنی میں مستعمل ہونا معہود ومعملوم نہیں ہے نہ لغت میں اور نہ شرع میں اور ائمہ لغت میں سے کسی نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ مفعل بمعنی (اولی) میں آتا ہے یعنی یہ تو کہا جاتا ہے کہ یہ چیز فلاں چیز سے اولی ہے یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ چیز فلاں چیز سے مولا ہے دوسرے یہ کہ خود شیعہ حضرت علی کو پوری امت کا دوست و محبوب و مددگار ہیں پس اس قدر مشترک کے اعتبار سے اس لفظ کے یہ معنی مراد لینا زیادہ موزوں ہے۔ رہی یہ بات کہ اگر آنحضرت ﷺ نے یہی مفہوم مراد لیا تھا تو پھر اس کو اتنے اہتمام سے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ یہ بات سب ہی کو معلوم تھی تو اس موالات کے بیان کرنے سے آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا تھا کہ کوئی بھی شخص علی سے بغض وعناد نہ رکھے۔ اس تنبیہ کے اظہار کے لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو جمع کیا جاتا اور پھر علی کی عظمت و بزرگی ثابت کرنے کے لئے ان الفاظ میں ان کی منقبت بیان کی جاتی۔ اسی لئے آپ ﷺ نے پہلے یوں فرمایا الستم تعلممون انی والی بالمؤمنین اور پھر بعد میں جو دعا فرمائی وہ بھی انہی الفاظ کی جہت و مناسبت سے رکھی، واضح ہو کہ یہ روایت جن دوسرے طرق سے منقول ہے ان میں سے بعض طرق میں پہلے تو اہل بیت نبوت کا عموماً ذکر ہے اور پھر حضرت علی کا خصوصی ذکر ہے، اس سے یہی ثابت ہوتا ہم کہ آپ ﷺ کا اصل مقصد تمام اہل بیت خصوصا حضرت علی کی محبت و توقیر کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا اور اس بارے میں تاکید کرنا تھا بعض روایتوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ یہ ارشاد نبوت دراصل اس ضرورت کے تحت تھا کہ بعض صحابہ کو اس شکوہ پر تنبیہ کی جائے جس کا انہوں نے حضرت علی کے خلاف اظہار کیا تھا۔ یہ وہ صحابہ تھے جو ایک خاص مشن پر حضرت علی کے ساتھ یمن گئے تھے۔ جب یہ صحابہ بشمول حضرت علی حجۃ الوداع کے موقعہ پر یمن سے آکر آنحضرت ﷺ کے شریک حج ہوئے تو انہوں نے حضرت علی کی نسبت بعض معاملات میں آنحضرت ﷺ سے کچھ شکایات بیان کیں جو اہل یمن کی بعض غلط فہمیوں کے سبب پیدا ہوئی تھیں۔ نہ صرف یہ بلکہ بعض صحابہ نے حضرت علی کی کسی بات کا انکار بھی کیا تھا ان صحابہ میں ایک صحابی بریدہ اسلمی بھی تھے، صحیح بخاری کی روایت میں جس کو ذہبی نے بھی صحیح قرار دیا ہے یوں سے کہ جب آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کی شان میں ان صحابہ کے شکایتی الفاظ سنے تو (غصہ کے مارے) آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا اور فرمایا اے بریدہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اہل ایمان کے نزدیک میں ان کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں اور پھر آپ ﷺ نے وہی الفاظ ارشاد فرمائے جو اوپر حدیث میں ہیں، بات چونکہ بہت اہم تھی اس لئے آپ ﷺ نے تمام صحابہ جمع کیا اور تاکیداً ان کے سامنے مذکورہ حدیث ارشاد فرمائی۔
Top