Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6077
وعن جابر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من يأتيني بخبر القوم يوم الأحزاب ؟ قال الزبير : أنا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن لكل نبي حواريا وحواري الزبير متفق عليه
حضرت زبیر کی فضیلت
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب (یعنی غزوہ خندق) کے موقع پر ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون شخص ہے جو (دشمن کے) لوگوں کی خبر میرے پاس لائے؟ زبیر بولے میں لاؤں گا۔ تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے حواری (یعنی خاص دوست اور مددگار ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں (بخاری ومسلم)
تشریح
حزب کی جمع ہے جس کے معنی گروہ کے ہیں اس موقع پر چونکہ مختلف اسلام دشمن گروہ یعنی قریش اور غیر قریش کے قبائل اور مدینہ کے وہ یہودی جن کا تعلق بنوقریظہ اور جلاوطن بنونضیر سے تھا، متحد اور جمع ہو کر آنحضرت ﷺ سے لڑنے آئے تھے اس لئے اس غزوہ کو غزوہ احزاب کہا جاتا ہے اس غزوہ میں دشمن کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی اور مجاہدین اسلام کل تین ہزار نفر دشمن دراصل مرکز اسلام کو تاخت و تاراج کردینے کے منصوبے کے تحت حملہ آور ہوا تھا اور اس کا ٹڈی دل لشکر تقریبا ایک مہینہ تک مدینہ کو گھیرے پڑا رہا۔ آنحضرت ﷺ نے تمام مجاہدین اسلام کی مدد سے دفاعی کاروائی کے طور پر مدینہ شہر کے گرد خندق کھودی تھی اور اس مناسبت سے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ وہ بڑے سخت دن تھے اور اہل اسلام نہایت پریشانیوں اور دشواریوں میں گھر کر رہ گئے تھے۔ باقاعدہ صف آرائی اور جنگ کی نوبت نہیں آئی، تاہم سنگ باری اور تیر انداز کے واقعات پیش آتے رہتے تھے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا لشکر نازل کیا اور ایسی آندھی بھیجی کہ دشمن کے خیمے اکھڑے گئے، چولہوں پر سے دیگچیاں اوندھی ہوگئیں جابجا ڈیروں میں آگ گل ہوگئی اور ہیبت ناک اندھیرا چھا گیا اور دشمن کا لشکر خوف و دہشت کے مارے راتوں رات بھاگ کھڑا ہوا۔ ان دنوں چونکہ یہودیوں اور منافقوں کے سبب مدینہ شہر کے اندر اور دشمن کے محاصرہ کے سبب باہر تک ہر طرف ایسی خطرناک صورت حال تھی کہ جنگی مصالح ومفاد سے متعلق معلومات فراہم کرنا اور دشمنوں کے بارے میں خبریں منگانا سخت دشوار مرحلہ تھا، اس لئے جب حضرت زبیر نے تمام خطرات اور دشواریوں کے باوجود اس خدمت کے لئے خود کو پیش کیا تو آنحضرت ﷺ نے ان کی زبردست تحسین فرمائی اور ان کو اپنا حواری ہونے کا اعزاز عطا فرمایا۔
Top