Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6258
عمر فاروق
حضرت عمر بن الخطاب ؓ عدی بن کعب کی اولاد سے ہیں اور قریشی ہیں ابوحفصہ کنیت ہے، پانچویں پشت پر ان کا اور آنحضرت ﷺ کا سلسلہ نسب ایک ہوجاتا ہے زمانہ اسلام سے پہلے بھی حضرت عمر ؓ کا شمار نہایت اہم عمائدین قریش میں ہوتا تھا اور اس زمانہ میں اہل مکہ کی طرف سے سفارت ونمائیدگی کی ذمہ داری انہی کے سپرد تھی، یعنی جب بھی کسی موقع پر اہل مکہ اور قریش دوسرے قبائل کے سرداروں یا دوسری جگہ کے چودھریوں کے پاس اہم پیغام یا مشن بھیجتے تو اس کے لئے حضرت عمر ؓ ہی کا انتخاب کیا جاتا تھا حضرت عمر ؓ بہت گورے چٹے تھے، نہایت سفید وچمکدار آنکھیں سرخ اور قد اتنا بلند اور پر شکوہ تھا کہ جب لوگوں کے درمیان کھڑے ہوتے تو معلوم ہوتا تھا کہ وہ اونٹ پر سوار ہیں اور دوسرے لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ تورایت میں حضرت عمر ؓ کی تعریف ان الفاظ میں ہوئی ہے قرن حدید شدید امین یعنی وہ پہاڑ کی چوٹی بلند پر شکوہ ہے، تیز ہے، سخت ہے اور امانت دار ہے، اسلام میں حضرت عمر ؓ کا لقب فاروق ہے کیونکہ ان کی ذات حق و باطل اور کفر کے درمیان فرق کردینے والی معیار تھی، ان کی ہیبت اتنی زبر دست تھی کہ ان کی بڑی سے بڑی مخالفت طاقت بھی ان سے لرزاں رہتی تھی انہوں نے آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ کے حکم پر راہ ہجرت اختیار کی تھی۔ منقول ہے کہ جب فاروق اعظم ؓ نے ہجرت کے ارادہ سے مکہ کو چھوڑنا چاہا تو تلوار گلے میں ڈالی، کمان کا چلہ چڑھایا اور تیر ہاتھ میں لئے ہوئے کعبہ میں آئے جہاں قریش کے تمام سردار اور کفار مکہ عمائدین پہلے سے موجود تھے، فاروق اعظم نے ان سب کے سامنے کعبہ اقدس کا طواف کیا دو رکعت نماز پڑھی اور پھر قریش و کفار مکہ کے سرداروں کی ایک ٹولی کے پاس الگ الگ آئے اور ان کو مخاطب کرکے بولے، تمہارے چہروں پر پھٹکار بر سے تم میں سے جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اس کی ماں زندگی بھر اس کو روتی رہے اس کا بیٹا یتیم ہوجائے اور اس کی بیوی اپنا سہاگ گنوا بیٹھے تو وہ میرے تعاقب میں نکلے اور اس وادی یعنی مکہ شہر سے باہر مجھ سے ملے لیکن ان میں سے کسی کو فاروق اعظم ؓ کے تعاقب کی ہمت نہ ہوئی۔ حضرت عمر فاروق ؓ اسلام کے دوسرے خلیفہ ارشد ہیں ان کی خلافت کی مدت ساڑھے دس سال ہے اور مشہور قول کے مطابق ان کی عمر تریسٹھ سال کی ہوئی، ؓ۔
Top