مشکوٰۃ المصابیح - یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب - 6301
" یمن " ان شہروں اور بستیوں کو کہتے تھے جن کا محل وقوع خانہ کعبہ کے دائیں سمت پڑتا تھا، اب ایک مشہور تاریخی ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جو جزیرہ نمائے عرب کے جنوب مغربی گوشہ پر واقع ہے۔ گوموجود عہد میں یمن ان تمام خطوی پر مشتمل نہیں ہے، جن پر عہد سابق میں مشتمل تھا، تاہم اس وقت کے مرکزی اور بڑے حصے اب بھی یمن ہی میں شامل ہیں۔ جو چیز یا جو شخص یمن کی طرف منسوب ہو اس کو " یمنی " بھی کہتے ہیں، " یمان " بھی کہتے ہیں اور " یمانی " بھی بعض حضرات اس لفظ (یمانی) کوئی کی تشدید کے ساتھ " یمانی " بھی بیان کرتے ہیں۔ " شام " ان شہروں اور بستیوں کو کہا جاتا تھا جن کو محل وقوع خانہ کعبہ کے بائیں سمت پڑتا تھا کیونکہ عربی میں شام بائیں جانب کو کہتے ہیں جیسا کہ دائیں طرف یمین یا ایمن کہا جاتا ہے، شام اور مشام کا لفظ ہمزہ کے ساتھ بھی آتا ہے اور ہمزہ کے بغیر بھی، شام اب بھی ایک مشہور ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے " قرن " (ق اور ر کے زبر کے ساتھ) ایک بستی کا نام ہم جو یمن میں واقع ہے، یہ ایک شخص قرن بن رومان بن نامیہ بن مراد کے نام منسوب تھی، جو حضرت اویس قرنی کے اجداد میں سے تھا۔ ایک قرن اور ہے (جس کو اب قرن المنازل کہا جاتا ہے) لیکن یہ " قرن " ر کے جزم کے ساتھ " قرن " ہے، یہ دراصل ایک پہاڑی کا نام ہے جو مکہ سے تقریبا بیس میل کے فاصلے پر مشرقی جانب نجد جانے والے راستہ پر واقع ہے، اہل نجد کی میقات یہی قرن ہے، جوہری نے جو اس " قرن " کو ر کے زبر کے ساتھ لکھا ہے اور حضرت اویس قرنی کو اسی طرف منسوب کیا ہے وہ ان کی غلط فہمی ہے۔
Top