Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3888 - 3970)
Select Hadith
3888
3889
3890
3891
3892
3893
3894
3895
3896
3897
3898
3899
3900
3901
3902
3903
3904
3905
3906
3907
3908
3909
3910
3911
3912
3913
3914
3915
3916
3917
3918
3919
3920
3921
3922
3923
3924
3925
3926
3927
3928
3929
3930
3931
3932
3933
3934
3935
3936
3937
3938
3939
3940
3941
3942
3943
3944
3945
3946
3947
3948
3949
3950
3951
3952
3953
3954
3955
3956
3957
3958
3959
3960
3961
3962
3963
3964
3965
3966
3967
3968
3969
3970
3970
3970
3970
3970
مشکوٰۃ المصابیح - سود کا بیان - حدیث نمبر 597
وَعَنْ عَلِیٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ےَوْمَ الْخَنْدَقِ حَبَسُوْنَا عَنْ صَلٰوۃِ الْوُسْطٰی صَلٰوۃِ الْعَصْرِ مَلَأ اللّٰہُ بُےُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
نماز کے فضائل کا بیان
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ خندق کے روز فرماتے تھے کہ (کافروں نے) ہمیں درمیانی نماز یعنی عصر کے پڑھنے سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں میں آگ بھرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
غزوہ خندق کو غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں جو ٤ ھ یا ٥ ھ میں ہوا تھا۔ اس جنگ کو غزوہ خندق اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسی غزوہ کے موقعہ پر حضرت سلمان فارسی ؓ کے مشورہ سے دشمنوں سے بچاؤ کی خاطر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تھی۔ خندق کھود نے میں تمام مسلمانوں کے ہمراہ خود سرکار دو عالم ﷺ (فداہ ابی وامی) بھی بنفس نفیس شریک تھے۔ جس طرح دیگر مخلص مومنین دن بھر بھوکے پیاسے رہ کر اللہ کے دین کی حفاظت اور اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے مشن کی کامیابی کے لئے اس محنت و مشقت میں مصروف رہتے تھے اسی طرح آقائے نامدار سرور کائنات فخر دو عالم جناب محمد رسول اللہ ﷺ بھی بڑی بڑی تکالیف برداشت فرما کر مصائب و رنج اٹھا کر بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ کر سردی کی شدید پریشانی اور زمین کو کھودنے پتھر اکھاڑنے کی سخت محنت جھیل کر اپنے جانثار رفقاء کے ہمراہ خندق کھودتے تھے۔ اسی جنگ میں بسبب تردد اور تیر اندازی رسول اللہ ﷺ کی چار نمازیں قضا گئی تھیں انہیں میں عصر کی نماز بھی تھی رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز کی فضیلت ظاہر کرنے کے لئے یہ بد دعا فرمائی جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح ان کفار و مشرکین نے ہماری نمازیں قضا کرا کر ہمیں سخت روحانی تکلیف و ازیت میں مبتلا کیا ہے، اللہ کرے وہ بھی دنیا و آخرت کے شدید عذاب میں مبتلا کئے جائیں۔ ایک معمولی سا خلجان یہاں واقع ہوسکتا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر آپ ﷺ کی ذات اقدس کو جبکہ کفار کی جانب سے بےانتہا تکلیف پہنچائی گئی تو آپ ﷺ نے وہاں بددعا نہیں کی اور یہاں بدعا فرمائی اس کی وجہ کیا ہے؟۔ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کا معاملہ تھا وہاں آپ ﷺ کی شان رحمت کا تقاضا تھا کہ اپنے نفس کے معاملہ میں کسی کے لئے بددعا نہ کریں مگر یہاں نماز کا سوال تھا جس کا تعلق آپ ﷺ کی ذات سے نہ تھا بلکہ حقوق اللہ سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے بد دع فرمائی۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صلوٰۃ وسطی عصر کی نماز ہے چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین اور تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم میں سے اکثر جلیل القدر حضرات، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم وغیرہ کا قول یہی ہے لہٰذا قرآن شریف کی آیت کریمہ آیت (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ 238) (یعنی محافظت کرو تم سب نمازوں کی اور درمیانی نماز کی) میں وسطی سے عصر کی نماز ہی مراد لی جائے گی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس کے تعین میں اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اختلاف رہا ہے تو اس کی وجہ بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت تک ان حضرات تک رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث (جو آئندہ فصل میں آرہی ہے) نہیں پہنچی ہوگی جس سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے عصر کی نماز مراد ہے۔ اس لئے وہ حضرات اپنے اجتہاد اور رائے کی بناء پر اس کے تعین میں اختلاف کرتے ہوں گے چناچہ اس حدیث کے صحت کے بعد یہ متعین ہوگیا کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ وا اللہ اعلم۔
Top