Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - ابن صیاد کے قصہ کا بیان - حدیث نمبر 5403
وعن عائشة قالت إذا فرقت لرسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه صدعت فرقه عن يافوخه وأرسلت ناصيته بين عينيه . رواه أبو داود .
ابن صیاد کاہن تھا
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ ان سب کی ملاقات مدینہ کے ایک راستہ میں ابن صیاد سے ہوگئی، رسول کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے جواب میں کہا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول کریم ﷺ نے ( یہ سن کر) فرمایا۔ میں اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ( اس کے بعد آپ ﷺ نے پوچھا کہ اچھا یہ بتا) تو کیا چیز دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں ایک تخت کو پانی پر دیکھتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ تو ابلیس کے تخت کو سمندر پر دیکھتا ہے! پھر فرمایا۔ اس کے علاوہ اور کیا دیکھتا ہے؟ ابن صیاد نے کہا کہ دو سچوں کو دیکھتا ہوں ( جو سچی خبریں لایا کرتے ہیں) اور ایک جھوٹے کو دیکھتا ہوں ( جو جھوٹی خبریں لایا کرتا ہے) یا دو جھوٹوں کو دیکھتا ہوں اور ایک سچے کو اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ( صحابہ سے مخاطب ہو کر) فرمایا اس کے لئے صورت حال ( یعنی کہانت) کو گڈ مڈ کردیا گیا ہے، اس کو چھوڑ دو ( یعنی یہ تو ٹھیک ٹھیک بات کرنے کے بھی قابل نہیں ہے کہ اس کا کوئی جواب دیا جائے۔ ( مسلم)
تشریح
تو ابلیس کے تخت کو سمندر پر دیکھتا ہے۔ کے ذریعہ حضور ﷺ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ ابلیس پانی کے اوپر اپنا تخت بچھا کر اس پر اپنا دربار قائم کرتا ہے اور وہیں سے اپنے چیلوں اور اپنے ساتھیوں کی ٹولیوں کو دنیا میں بھی فتنہ و فساد پھیلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے روانہ کرتا ہے اس کا ذکر کتاب کے شروع میں باب الوسوسہ میں گزر چکا ہے۔ یا دو جھوٹوں کو دیکھتا ہوں اور ایک سچے کو یہ یا تو راوی نے اپنا شک ظاہر کیا ہے کہ اس موقع پر روایت کے الفاظ اس طرح ہیں یا یہ کہ خود ابن صیاد ہی نے اس شک کے ساتھ بیان کیا ہو میں یا تو دو سچوں اور ایک جھوٹے کو دیکھتا ہوں یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو اور یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس کا معاملہ جس طرح خلط و احتمالات میں گرا ہوا تھا اور اس کے احوال جس طرح نظام و استقلال اور استقامت و یقین سے خالی تھے اس کا تقاضا ہی یہ تھا کہ اس کو کسی بھی صورت جزم و یقین حاصل نہ ہوا چناچہ وہ کبھی اس طرح دیکھتا تھا اور کبھی اس طرح۔
Top