Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1192 - 1279)
Select Hadith
1192
1193
1194
1195
1196
1197
1198
1199
1200
1201
1202
1203
1204
1205
1206
1207
1208
1209
1210
1211
1212
1213
1214
1215
1216
1217
1218
1219
1220
1221
1222
1223
1224
1225
1226
1227
1228
1229
1230
1231
1232
1233
1234
1235
1236
1237
1238
1239
1240
1241
1242
1243
1244
1245
1246
1247
1248
1249
1250
1251
1252
1253
1254
1255
1256
1257
1258
1259
1260
1261
1262
1263
1264
1265
1266
1267
1268
1269
1270
1271
1272
1273
1274
1275
1276
1277
1278
1279
مؤطا امام مالک - کتاب بیع کے بیان میں - حدیث نمبر 58
وعن قيس بن أبي حازم أن بلالا قال لأبي بكر : إن كنت إنما اشتريتني لنفسك فأمسكني وإن كنت إنما اشتريتني لله فدعني وعمل الله . رواه البخاري
حضرت بلال
اور حضرت قیس بن ابی حازم (تابعی) سے روایت ہے کہ حضرت بلال ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا تھا کہ اگر آپ نے اپنی ذاتی خوشی کے لئے مجھ کو خریدا تھا تو مجھ کو اپنے پاس رکھ لیجئے ( اور جس خدمت پر چاہیں مامور کردیجئے) لیکن اگر آپ نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے خریدا تھا تو پھر مجھ کو اللہ کے کام کے لئے آزاد چھوڑ دیجئے۔ (بخاری)
تشریح
حضرت ابوبکر ؓ سے حضرت بلال ؓ کی اس گفتگو کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ پہلے ایک غلام تھے اور دشمنان دین کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک بڑی رقم خرچ کر کے ان کو خریدا اور آزاد کردیا، اس کے بعد وہ نبی کریم ﷺ کے خصوصی خادموں میں شامل ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو اذان دینے کی خدمت پر مامور کردیا اور وصال نبی تک حضرت بلال ؓ یہ خدمت انجام دیتے رہے۔ جب آنحضرت ﷺ کا وصال ہوا تو عشق نبوی سے سرشار حضرت بلال ؓ کے لئے مدینہ کا قیام ایک بڑی آزمائش بن گیا۔ اس تصور ہی سے ان کا پیمانہ صبر چھلک جاتا تھا کہ آنحضرت ﷺ موجود نہ ہوں اور وہ مسجد نبوی کی طرف دیکھیں اور اس میں جا کر اذان دیں، چناچہ انہوں نے ملک شام چلے جانا کا ارادہ کرلیا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے حضرت بلال ؓ کو روکنا چاہا اور ان سے درخواست کی کہ آپ یہیں میرے پاس رہیں اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کی طرف مسجد نبوی میں اذان دیتے رہے، اس وقت حضرت بلال ؓ نے یہ بات کہی کہ اگر آپ نے مجھ کو اس لئے خریدا تھا کہ میں آپ کی خوشی اور آپ کی خواہش کی تکمیل کرتا رہوں تو میں آپ کی بات ماننے پر مجبور ہوں جو بھی خدمت آپ میرے سپرد کریں گے اس کو انجام دینا اپنا فرض سمجھوں گا لیکن اگر آپ نے مجھ کو اس مقصد کے نہیں خریدا تھا بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کی خاطر خریدا اور آزاد کیا تو پھر میں چاہوں گا کہ آپ مجھ کو اپنا پابند نہ بنائیں، مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے کہ میں جہاں چاہوں چلا جاؤں اور مخلوق سے کوئی سروکار نہ رکھتے ہوئے اپنے خالق کے کاموں میں ہمہ تن اور ہمہ مصروف رہوں۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت بلال نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھ کو گوارا نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بغیر اس طرف نظر اٹھاؤں جہاں آنحضرت ﷺ رہا کرتے تھے آپ ﷺ کے بغیر اب یہاں رہنا میرے لئے ناممکن ہے۔ چہ مشکل ترا زین بر عاشق زار کے بےدلدار بیند جائے دلدار اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت بلال ؓ کو مدینہ میں روکنے کی کوشش نہیں کی اور وہ اس لشکر میں شامل ہو کر سوئے دمشق روانہ ہوگئے جو شام جارہا تھا، پھر آخر عمر تک وہیں قیام پذیر رہے یہاں تک کہ ١٨ ھ یا ایک روایت کے مطابق ٢٠ ھ میں واصل بحق ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ روایت کے بالکل بےبنیاد ہے جس میں حضرت بلال ؓ کے شام جانے اور پھر وہاں خواب میں آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر مدینہ لوٹ آنے اور مسجد نبوی میں اذان دینے اور اتنے دنوں بعد ان کی آذان سن کر مدینہ اور اہل مدینہ کے لرز جانے کا ذکر ہے۔
Top