مشکوٰۃ المصابیح - عدت کا بیان - 3329
عدت کے معنی : لغت میں عدت کے معنی ہیں شمار کرنا اور اصطلاح شریعت میں عدت اسے کہتے ہیں کہ جب کسی عورت کو اس کا خاوند طلاق دیدے یا خلع و ایلاء وغیرہ کے ذریعہ نکاح یا نکاح جیسی چیز مثلا نکاح فاسد ٹوٹ جائے بشرطیکہ اس نکاح میں جماع یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو یا شوہر مرجائے تو وہ مقررہ مدت کہ جس کی تفصیل آگے آئے گی) گھر میں رکی رہے جب تک وہ مدت ختم نہ ہوجائے تب تک نہ کہیں جائے اور نہ کسی دوسرے مرد سے ملاقات کرے جب مدت پوری ہوجائے تو جہاں چاہے جائے اور جس طرح چاہے نکاح کرے۔ عدت کی مدت : جس آزاد عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی ہو یا نکاح فسخ ہوگیا ہو اور اس کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت کی مدت تین حیض ہے یعنی وہ تین حیض آنے تک شوہر ہی کے گھر میں جہاں طلاق ملی ہو بیٹھی رہے اس گھر سے باہر نہ نکلے اور نہ کسی سے نکاح کرے اسی طرح جس عورت کے ساتھ شبہ میں جماع ہوگیا ہو اس کی عدت کی مدت بھی تین حیض ہے یعنی کسی مرد نے کسی غیر عورت کو اپنی بیوی سمجھ کر دھوکہ سے صحبت کرلی تو اس عورت کو بھی تین حیض آنے تک عدت میں بیٹھنا ہوگا جب تک عدت ختم نہ ہوجائے تب تک وہ اپنے شوہر کو جماع نہ کرنے دے جس عورت کے ساتھ بےقاعدہ یعنی فاسد نکاح ختم ہوا ہو جیسے موقت نکاح اور پھر تفریق کرا دی گئی یا تفریق کرانے سے پہلے ہی خاوند مرگیا ہو تو اس عدت کی مدت بھی تین حیض ہے۔ ام ولد جب کہ آزاد کردی جائے یا اس کا مولیٰ مرجائے تو اس کی عدت بھی تین حیض ہیں۔ اگر کسی عورت کو کم سن ہونے کیوجہ سے یا بانجھ ہونے کی وجہ سے اور یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین مہینہ ہے۔ جس آزاد عورت کا خاوند مرگیا اور اس کی عدت چار مہینہ دس دن ہے خواہ اس عورت سے جماع کیا گیا ہو یا جماع نہ کیا گیا ہو خواہ وہ مسلمان عورت ہو یا مسلمان مرد کے نکاح میں یہودیہ اور نصرانیہ ہو خواہ وہ بالغہ ہو یا نابالغہ اور یا آئسہ ہو خواہ اس کا شوہر آزاد ہو یا غلام ہو اور خواہ اس کی مدت میں اس کو حیض آئے یا نہ آئے۔ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے خواہ اس عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دی ہو یا اس کا خاوند مرگیا ہو اور خواہ وہ عورت آزاد ہو یا لونڈی ولادت ہوتے ہی اس کی عدت پوری ہو جائیگی اگرچہ خاوند کے طلاق دینے یا خاوند کے مرنے کے کچھ ہی دیر بعد ولادت ہوجائے یہاں تک کہ کتاب مبسوط میں لکھا ہے کہ اگر حاملہ عورت کا شوہر مرگیا ہو اور وہ ابھی تختہ پر نہلایا جا رہا تھا یا کفنایا جا رہا تھا کہ اس عورت کے ولادت ہوگئی تو اس صورت میں بھی اس کی عدت پوری ہو جائیگی۔ جو عورت آزاد ہو یعنی کسی کی لونڈی ہو اور اس کا خاوند اس کو طلاق دے دے تو اس کی عدت دو حیض ہے بشرطیکہ اس کو حیض آتا ہو اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو تو پھر اس کی عدت ڈیڑھ مہینہ ہوگی اور اگر اس کا خاوند مرجائے تو تو اس کی عدت دو مہینے پانچ دن ہوگی خواہ اس کو حیض آتا ہو یا نہ آتا ہو۔ عدت کی ابتداء کا وقت : طلاق کی صورت میں عدت کی ابتداء طلاق کے بعد سے ہوگی یعنی طلاق کے بعد جو تین حیض آئیں گے ان کا شمار ہوگا اگر کسی نے حیض کی حالت میں طلاق دی ہوگی تو اس حیض کا شمار نہ ہوگا بلکہ اس کے بعد کے تین حیض کا اعتبار کیا جائے گا اور وفات میں عدت کا شمار شوہر کی وفات کے بعد سے ہوگا اگر عورت کو طلاق یا وفات کی خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ عدت کی مدت گزر گئی تو اس کی عدت پوری ہوگی عدت کے مسائل کی باقی تفصیل فقہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
Top