Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
سنن النسائی - شرطوں سے متعلق احادیث - حدیث نمبر 3911
استبراء کا بیان
شریعت میں استبراء کا مطلب ہے لونڈی کے رحم کی حمل سے پاکی صفائی طلب کرنا اس کی فقہی تفصیل یہ ہے کہ جب کسی شخص کی ملکیت میں کوئی لونڈی آئے خواہ اس نے اس کو خریدا ہو یا کسی وصیت میں ملی ہو، یا کسی نے ہبہ کی ہو اور یا میراث میں ملی ہو تو اس شخص کو اس لونڈی سے اس وقت تک جماع کرنا یا مساس کرنا اور یا بوسہ لینا وغیرہ حرام ہے جب تک کہ استبراء نہ کرلے یعنی اس کے قبضہ میں آنے کے بعد ایک حیض نہ آجائے اگر اس کو حیض آتا ہو یا نہ آنے کی صورت میں اس پر ایک مہینہ کی مدت نہ گزر جائے اور یا حاملہ ہونے کی صورت میں ولادت نہ ہوجائے اور یہ استبراء ہر حال میں کرنا ضروری ہے خواہ وہ باکرہ ہی کیوں نہ ہو یا اس کو کسی عورت نے کیوں نہ خریدا ہو یا وہ کسی محرم یا اپنے نابالغ بچہ کے مال سے بذریعہ وراثت وغیرہ کیوں نہ حاصل ہوئی ہو اگرچہ ان صورتوں میں قیاس کا تقاضا تو یہ ہے کہ استبراء واجب نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ استبراء میں حکمت یہ ہے کہ اس طریقہ سے اس کے رحم کا کسی غیر کے نطفہ سے پاک و نامعلوم ہوجائے تاکہ اس کے نطفہ کا کسی غیر کے نطفہ کے ساتھ اختلاط نہ ہو اور ظاہر ہے کہ ان صورتوں میں کسی غیر کے نطفہ کا کوئی احتمال نہیں ہے لیکن چونکہ یہ صریح نص ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اوطاس کے غزوہ کے موقع پر حاصل ہونیوالی لونڈیوں کے بارے میں فرمایا کہ خبردار حاملہ لونڈی سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب کہ اس کے ولادت نہ ہوجائے اور غیر حاملہ سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے اور ظاہر ہے کہ ان لونڈیوں میں باکرہ بھی ہوں گی اور ایسی لونڈیاں بھی ہوں گی جو باکرہ کی نطفہ کے اختلاط کا احتمال نہیں رکھتی ہوں گی اس لئے قیاس کو نظر انداز کر کے ان صورتوں میں بھی استبراء کو واجب قرار دیا ہے۔
Top