مشکوٰۃ المصابیح - استبراء کا بیان - 3339
شریعت میں استبراء کا مطلب ہے لونڈی کے رحم کی حمل سے پاکی صفائی طلب کرنا اس کی فقہی تفصیل یہ ہے کہ جب کسی شخص کی ملکیت میں کوئی لونڈی آئے خواہ اس نے اس کو خریدا ہو یا کسی وصیت میں ملی ہو، یا کسی نے ہبہ کی ہو اور یا میراث میں ملی ہو تو اس شخص کو اس لونڈی سے اس وقت تک جماع کرنا یا مساس کرنا اور یا بوسہ لینا وغیرہ حرام ہے جب تک کہ استبراء نہ کرلے یعنی اس کے قبضہ میں آنے کے بعد ایک حیض نہ آجائے اگر اس کو حیض آتا ہو یا نہ آنے کی صورت میں اس پر ایک مہینہ کی مدت نہ گزر جائے اور یا حاملہ ہونے کی صورت میں ولادت نہ ہوجائے اور یہ استبراء ہر حال میں کرنا ضروری ہے خواہ وہ باکرہ ہی کیوں نہ ہو یا اس کو کسی عورت نے کیوں نہ خریدا ہو یا وہ کسی محرم یا اپنے نابالغ بچہ کے مال سے بذریعہ وراثت وغیرہ کیوں نہ حاصل ہوئی ہو اگرچہ ان صورتوں میں قیاس کا تقاضا تو یہ ہے کہ استبراء واجب نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ استبراء میں حکمت یہ ہے کہ اس طریقہ سے اس کے رحم کا کسی غیر کے نطفہ سے پاک و نامعلوم ہوجائے تاکہ اس کے نطفہ کا کسی غیر کے نطفہ کے ساتھ اختلاط نہ ہو اور ظاہر ہے کہ ان صورتوں میں کسی غیر کے نطفہ کا کوئی احتمال نہیں ہے لیکن چونکہ یہ صریح نص ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس کے غزوہ کے موقع پر حاصل ہونیوالی لونڈیوں کے بارے میں فرمایا کہ خبردار حاملہ لونڈی سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب کہ اس کے ولادت نہ ہوجائے اور غیر حاملہ سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے اور ظاہر ہے کہ ان لونڈیوں میں باکرہ بھی ہوں گی اور ایسی لونڈیاں بھی ہوں گی جو باکرہ کی نطفہ کے اختلاط کا احتمال نہیں رکھتی ہوں گی اس لئے قیاس کو نظر انداز کر کے ان صورتوں میں بھی استبراء کو واجب قرار دیا ہے۔
Top