Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 4322
وعن عمران بن حصين قال كنا في الجاهلية نقول أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا . فلما كان الإسلام نهينا عن ذلك . رواه أبو داود .
زمانہ جاہلیت کا سلام
اور حضرت عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں ملاقات کے وقت یہ کہا کرتے تھے انعم اللہ بک علینا وانعم صباحا یعنی اللہ تمہاری وجہ سے آنکھوں کو ٹھنڈا رکھے اور تم ہر صبح نعمتوں میں داخل ہو، پھر جب اسلام کا زمانہ آیا تو ہمیں یہ کہنے سے منع کردیا گیا۔ ابوداؤد)
تشریح
پہلا لفظ انعم نعومۃ سے ماضی کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں نرمی، تازگی اور شادمانی اس عبات انعم اللہ بک علینا کے دو مطلب ہوسکتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ بک میں حرف با سبب کے معنی میں ہے اور یہ جملہ اس مفہوم کا حامل ہے کہ اللہ تمہاری وجہ سے تمہارے دوستوں اور عزیزوں کی آنکھوں کو تر و تازہ اور روشن رکھے یہ گویا مخاطب کی خوش حالی سے کنایہ ہے کہ وہ خوش حال و شادمان رہے تاکہ اس کے دوست اس کی خوش حالی و شادمانی دیکھ کر خوش ہو، دوسرے یہ کہ حرف با زائد ہے اور اس سے تاکید تعدیہ مراد ہے اس صورت میں یہ جملہ اس مفہوم کا حامل ہوگا کہ اللہ تمہیں اس چیز کو دیکھنے کا موقع دے کر خوش و خرم رکھے جس کو تم پسند کرتے ہو اور اس کی طلب رکھتے ہو۔ دوسرا لفظ انعم امر کا صیغہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری صبح تمہارے لئے تر و تازگی و خوشحالی و مسرت کا باعث بنیں یا یہ کہ صبح کے وقت تم تر و تازہ اور خوش خرم رہو، یہ بھی خوشی و فراغت کے ساتھ وقت گزارنے سے کنایہ ہے اور صبح کے وقت کی تخصیص اس سبب سے ہے کہ دن کی ابتداء صبح سے ہوتی ہے اگر صبح کا وقت کسی حادثہ کو اپنے ساتھ لاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب پورا دن بےچینی وبے اطمینانی اور سخت روی کے ساتھ گزرے گا خاص طور پر اس زمانہ میں غارت گری اور لوٹ مار کا جو معمول بنا ہوا تھا کہ اس کی ابتداء عام طور سے صبح ہی کے وقت ہوتی تھی لہذا اس دور میں جس شخص کی صبح خیر و عافیت اور امن کے ساتھ گزر جاتی تھی اس کا پورا وقت اطمینان و چین کے ساتھ گزرتا تھا۔
Top