Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 4994
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب . متفق عليه
طاقتور شخص
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور پہلوان وہ شخص نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور اور پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو پچھاڑ دے اور اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس ارشاد گرامی کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ اصل میں اگر کوئی چیز انسان کی سب سے بڑی دشمن اور اس کے مقابلہ میں سب سے زیادہ طاقتور ہے تو وہ خود اس کا نفس ہے اگر کوئی شخص بڑے بڑے پہلوانوں کو پچھاڑتا رہا اور اپنے آپ کو طاقتور ترین دشمن کو بھی زیر کرتا رہا مگر خود اپنے نفس پر غالب نہیں آسکا تو یہ کوئی کمال نہیں ہے اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو زیر کرے جو اس کا اصل دشمن ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے، تمہارے دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو تمہارے دونوں پہلوؤں کے درمیان ہے۔ واضح رہے کہ بدن کی قوت ظاہری اور جسمانی ہے جو زوال پذیر اور فنا ہوجانے والی ہے اس کے برخلاف جو قوت نفس کو زیر کرتی ہے وہ دینی اور روحانی ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور ہمیشہ باقی رہتی ہے لہذا نفس امارہ کو مارنا وصف اور کمال کی بات ہے کہ جب کہ آدمی کو پچھاڑنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ مردے نہ بقوت بازو ست دزور کتف بانفس اگر بائی دانم کہ شاطرے
Top